بھارت کی مودی سرکار نے آسام میں بنگالی نژاد مسلم خاندانوں کے گھر بلڈوز کر دیے۔

بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار نے فسطائیت کا نیا وار کرتے ہوئے ایک بار پھر مسلمانوں کو نشانہ بنایا اور اڈانی منصوبے کے لیے آسام کے ہزاروں مظلوم مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلوا دیے ۔

مودی حکومت کا ریاستی ظلم جاری ہے، جہاں عوام بے گھر اور سرمایہ دار راتوں رات علاقے کےمالک بن بیٹھے  ہیں۔ مودی حکومت نے اڈانی کو زمین دینے کے لیے ہزاروں افراد سے زبردستی گھر چھین کر سڑکوں پر پھینک دیا۔

 دکن کرونیکل کے مطابق مودی سرکار کی جانب سے آسام میں بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی بے دخلی مہم شروع کردی گئی ہے۔ کارروائی کے دوران 2,000 سے زائد خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ  اڈانی گروپ کے تھرمل پاور پروجیکٹ کے لیے مظلوم مسلمانوں سے زمین خالی کروائی گئی ہے۔  بے دخلی کے خلاف عوام نے شدید احتجاج   کیا ہے اور پولیس و مظاہرین آمنے سامنے آنے سے حالات کشیدہ ہو چکے ہیں۔ بے گھر افراد کی جانب سے حکومت سے مکمل معاوضے اور باوقار طریقے سے دوبارہ آبادکاری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

بھارت میں مودی۔اڈانی گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب ہو چکا ہے۔ مودی سرکار سرمایہ داروں کے فائدے کے لیے ریاستی مشینری کو عوام کے خلاف ہتھیار بنا کر استعمال کر رہی ہے۔ سرمایہ داروں کی جنت، غریبوں کا جہنم ,یہ مودی کا نیا بھارت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مودی سرکار کے لیے کے گھر

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی