ورلڈبینک کے ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ نے مجموعی کارکردگی کا 96 فیصد ہدف حاصل کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 جولائی2025ء) ہائرایجوکیشن کمیشن کے تحت اعلیٰ تعلیم کے لئے جاری ورلڈبینک کے ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ (ایچ ای ڈی پی )نے غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مجموعی کارکردگی کا 96 فیصد ہدف حاصل کرلیا ہے۔ ایچ ای ڈی پی کے حکام نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ 142گرانٹس کی تکمیل میں 20مضامین کا نصاب اپ گریڈ کیا گیا،ایک درجن سے زائد تربیتی پروگرام،59تعلیمی اداروں میں ریسرچ پروگرام،133 خواتین لیڈرز،521 انتظامی افسران اور 271 اساتذہ کی تربیت جبکہ 75یونیورسٹیوں کو فنڈز منتقل کئے گئے۔
ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے مختلف حصوں میں پیشرفت کے حوالے سے عملدرآمد سپورٹ مشن(آئی ایس ایم ) کا انعقا کیا گیا جس میں اس کی درجہ بندی ”درمیانی“سے بڑھا کر”تسلی بخش“ قرار دی گئی ہے۔(جاری ہے)
پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کے تحت 142 گرانٹس جاری کی گئی جو کہ جون تک مکمل ہوچکی ہیں۔ دوسرے حصے میں، قومی نصاب نظرثانی کمیٹی (این سی آر سی ) کے تحت 20 مضامین کے نصاب کو اپ ڈیٹ کیا گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ نیشنل اکیڈمی آف ہائرایجوکیشن (ناہی) نے فیکلٹی ٹریننگ کے تحت یو ای پی پر عملدرآمد کے لئے ملک بھر میں 12 سے زائد تربیتی پروگرام منعقد کئے۔طلباء کی سہولت اور فارغ التحصیل افراد کی ٹریکنگ کے لئے ایک تجربہ کار ادارہ کے ساتھ معاہدہ بھی کیاگیاہے۔تیسرے حصے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی کے لئے آئی ٹی کے متعدد بڑے منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔پاکستان ایجوکیشن ریسرچ نیٹ ورک(پی ای آر این )کے ذریعے 59 اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مربوط کیا گیا جس کی تصدیق تھرڈ پارٹی آڈٹ نے کی ہے۔ اس حصے میں جدید آئی پی سرویلنس آلات کی خریداری کے معاہدے بھی کئے گئے۔پروگرام کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لئے”ٹیم اینیبلمنٹ سیشنز“ کا انعقاد کیا گیا جبکہ ”ٹرین دی ٹرینر“ پروگرام کے ذریعے تدریسی عملہ کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔پراجیکٹ کے پانچویں حصے میں خواتین کی خودمختاری، یونیورسٹی انتظامیہ کی تربیت اور فیکلٹی کے لیے قومی رسائی پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 133 خواتین لیڈرز،521 انتظامی افسران اور 271 اساتذہ کو تربیت فراہم کی گئی۔اس پروگرام کے چھٹے حصہ میں مالی خودمختاری کے فروغ کے لئے 75 یونیورسٹیوں کو فنڈز منتقل کئے گئے۔ اس دوران علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ورچوئل یونیورسٹی نے اوپن اینڈ ڈسٹنس لرننگ (او ڈی ایل) پالیسی کو اپنایاہے۔رپورٹ کے مطابق اس پراجیکٹ کی 96فیصد کامیاب تکمیل اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی شعبہ بہتری کی جانب تیزی سے گامزن ہے اور ملکی تعلیمی،سماجی اور معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کررہاہے۔\395.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پروگرام کے کیا گیا کے تحت کے لئے
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔