صوبائی امیر جماعت اسلامی باجوڑ میں مولانا خان زیب شہید کے گھر تعزیت کے لیے پہنچے جہاں انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پشتون بیلٹ میں مسلسل آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، اور بدقسمتی سے آج بھی اس خطے کے عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی و سابق سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ پختون دھرتی کی ایک توانا اور مؤثر آواز، مولانا خان زیب کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔ ان کی شہادت صرف ان کے خاندان کا نہیں بلکہ پورے خیبر پختونخوا کے ہر گھر، ہر قوم پرست اور باشعور فرد کا اجتماعی غم ہے۔ وہ باجوڑ میں مولانا خان زیب شہید کے گھر تعزیت کے لیے پہنچے جہاں انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پشتون بیلٹ میں مسلسل آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، اور بدقسمتی سے آج بھی اس خطے کے عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔ مؤثر آوازوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خاموش کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف باجوڑ میں پچھلے چند ماہ کے دوران متعدد سیاسی و سماجی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے کنونشن پر بم دھماکہ، ریحان زیب کی شہادت، سینیٹر ہدایت اللہ خان اور محمد حمید صوفی کا قتل، اور اب مولانا خان زیب کی المناک شہادت، یہ سب واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ خیبر پختونخوا بدترین بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ عنایت اللہ خان نے کہا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے، مگر بدقسمتی سے ریاستی ادارے اس ذمہ داری کی ادائیگی میں مسلسل ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ اربابِ اقتدار اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں جبکہ عوام مسلسل لاشیں اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر امن کے لیے یکجا ہوں۔ باجوڑ کی مقامی قیادت نے 13 جولائی کو جو "امن پاسون" کا اعلان کیا ہے، جماعت اسلامی اس کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کی ضلعی قیادت، کارکنان اور منتخب نمائندے اس عوامی آواز کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ عنایت اللہ خان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر غور کے لیے 29 جولائی کو پشاور میں ایک آل پارٹیز کانفرنس طلب کی ہے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین، قبائلی مشران، سماجی شخصیات اور مختلف مکاتب فکر کے نمائندگان کو مدعو کیا جائے گا۔ اس کانفرنس کا مقصد ایک مشترکہ مؤقف اور مستقبل کے لیے متفقہ لائحہ عمل طے کرنا ہے۔

انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متنبہ کیا کہ عوام میں مایوسی اور ریاستی اداروں سے بداعتمادی اپنی انتہاؤں کو پہنچ چکی ہے، اور اگر یہ کیفیت برقرار رہی تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ عوامی غصے کو سنجیدگی سے لیا جائے، اور فوری طور پر مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت، فرد یا قبیلے کا نہیں بلکہ پورے پشتون قوم کا مسئلہ ہے۔ جب یہاں امن ہوگا تب ہی سیاست، ترقی، تعلیم اور کاروبار ممکن ہو سکے گا۔ عوام سے اپیل ہے کہ 13 جولائی کو خوف کی زنجیریں توڑ کر باہر نکلیں اور امن کے لیے اپنی اجتماعی آواز بلند کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مولانا خان زیب عنایت اللہ خان خیبر پختونخوا جماعت اسلامی کہ عوام کے لیے

پڑھیں:

زندگی کا مقصد

دنیا میں آنے والا ہر انسان کسی نہ کسی مرحلے پر یہ سوال ضرور کرتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میں کیوں پیدا کیا گیا ہوں؟ کیا زندگی صرف تعلیم حاصل کرنے، روزگار کمانے، آسائشیں جمع کرنے اور پھر ایک دن اس دنیا سے رخصت ہو جانے کا نام ہے، یا اس کے پیچھے کوئی بڑا مقصد بھی موجود ہے؟ یہی سوال صدیوں سے انسان کے ذہن کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہا ہے۔ فلاسفہ، مفکرین اور دانشور اپنے اپنے انداز میں اس کا جواب تلاش کرتے رہے ہیں، لیکن اسلام اس حوالے سے نہایت واضح اور جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآنِ مجید کے مطابق انسان کی تخلیق کسی اتفاق یا بے مقصد عمل کا نتیجہ نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو ایک عظیم مقصد کے تحت پیدا فرمایا۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی کا بنیادی مقصد اپنے خالق کو پہچاننا، اس کی اطاعت کرنا اور اس کی رضا حاصل کرنا ہے۔یہاں عبادت کا مفہوم صرف نماز، روزہ یا دیگر مخصوص مذہبی اعمال تک محدود نہیں۔ اسلام میں عبادت ایک جامع تصور ہے جس میں زندگی کا ہر وہ عمل شامل ہے جو اللہ تعالی کی رضا کے لئے کیا جائے۔ ایک طالب علم کا دیانت داری سے علم حاصل کرنا، ایک تاجر کا ایمانداری کے ساتھ کاروبار کرنا، ایک استاد کا اخلاص کے ساتھ تعلیم دینا اور ایک شہری کا معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا بھی عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔قرآنِ مجید انسان کو یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اسے بے مقصد پیدا نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تمہیں فضول پیدا کیا گیا ہے اور تمہیں ہماری طرف واپس نہیں لوٹنا؟ اس پیغام میں انسان کے لئے ایک اہم تنبیہ موجود ہے کہ اس کی زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے اور اسے ایک دن اپنے تمام اعمال کا حساب دینا ہوگا۔اسلام انسان کو زمین پر اللہ کا نائب قرار دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو زمین پر خیر، انصاف اور بھلائی کے قیام کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسے علم حاصل کرنا، معاشرے کی اصلاح کرنا، کمزوروں کی مدد کرنا اور اخلاقی اقدار کو فروغ دینا ہے۔ جب انسان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر زندگی گزارتا ہے تو وہ اپنے مقصدحیات کے قریب تر ہو جاتا ہے۔زندگی دراصل ایک امتحان ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالی نے موت اور زندگی کو اس لئے پیدا کیا تاکہ آزمایا جائے کہ کون بہترین عمل کرتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد انسان کی سوچ بدل جاتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ کامیابی صرف مال و دولت، عہدے یا شہرت کا نام نہیں بلکہ بہترین کردار، اعلی اخلاق اور نیک اعمال کا نام ہے۔اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو اکثر لوگ دنیاوی کامیابی کو ہی زندگی کا آخری مقصد سمجھ لیتے ہیں۔ وہ دولت جمع کرنے، دوسروں سے آگے نکلنے اور ظاہری کامیابی حاصل کرنے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔ لیکن جب مقصد صرف دنیا بن جائے تو انسان حقیقی سکون سے محروم رہ جاتا ہے۔ اسلام انسان کو توازن کا درس دیتا ہے۔ وہ دنیا میں بھی کامیابی چاہتا ہے لیکن آخرت کی کامیابی کو اس سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات بھی مقصدِ حیات کو بہت خوبصورتی سے واضح کرتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی عمل کی اصل قدر اس کی نیت سے متعین ہوتی ہے۔ اگر انسان کی نیت درست ہو اور وہ اللہ کی رضا کے لئے کام کرے تو اس کے معمولی سے معمولی کام کو بھی عظیم اجر حاصل ہو سکتا ہے۔ایک اور مشہور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس تعلیم سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسان صرف اپنی ذات کے لئے نہیں جیتا بلکہ وہ اپنے خاندان، اپنے معاشرے اور اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی جواب دہ ہے۔ ایک والد، استاد، حکمران، تاجر یا طالب علم سب اپنی اپنی جگہ ذمہ دار ہیں اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کا حساب دینا ہوگا۔اسی طرح آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔ یہ تعلیم انسان کو مثبت کردار، حسنِ اخلاق اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ آج کے دور میں جب سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے الفاظ بہت تیزی سے پھیلتے ہیں، یہ حدیث پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے دنیا اور آخرت کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ مومن دنیا کی نعمتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتا، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن اپنی خواہشات کو اللہ کے احکامات کا پابند بناتا ہے اور آخرت کی دائمی کامیابی کو دنیا کی عارضی لذتوں پر ترجیح دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مقصد کے بغیر زندگی ایک ایسے جہاز کی مانند ہے جس کا کوئی راستہ متعین نہ ہو۔ انسان جتنا بھی کامیاب نظر آئے، اگر اس کے پاس واضح مقصد نہ ہو تو وہ اندرونی بے چینی اور خلا کا شکار رہتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے رب کو پہچان لیتا ہے، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ لیتا ہے اور اپنی زندگی کو خیر اور بھلائی کے لئے وقف کر دیتا ہے، وہ حقیقی سکون حاصل کر لیتا ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں اور خود سے یہ سوال کریں کہ کیا ہم اپنے اصل مقصد کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں؟ کیا ہماری تعلیم، ہماری محنت، ہمارے تعلقات اور ہماری روزمرہ سرگرمیاں ہمیں اللہ کی رضا کے قریب لے جا رہی ہیں؟ اگر نہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔مختصرا، انسان دنیا میں صرف کھانے، پینے، کمانے اور مر جانے کے لئے نہیں آیا۔ اس کا مقصد اپنے خالق کی معرفت حاصل کرنا، اس کی عبادت کرنا، بہترین اخلاق اپنانا، انسانیت کی خدمت کرنا اور آخرت کی کامیابی کے لیے تیاری کرنا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا میں عزت، سکون اور کامیابی عطا کرتا ہے اور آخرت میں دائمی فلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایک بامقصد زندگی ہی درحقیقت کامیاب زندگی ہے، اور یہی اسلام کا پیغام ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • زندگی کا مقصد
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت