پختون دھرتی کی توانا آواز مولانا خان زیب ہمیشہ کیلئے خاموش کر دی گئی، عنایت اللہ خان
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
صوبائی امیر جماعت اسلامی باجوڑ میں مولانا خان زیب شہید کے گھر تعزیت کے لیے پہنچے جہاں انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پشتون بیلٹ میں مسلسل آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، اور بدقسمتی سے آج بھی اس خطے کے عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی و سابق سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ پختون دھرتی کی ایک توانا اور مؤثر آواز، مولانا خان زیب کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔ ان کی شہادت صرف ان کے خاندان کا نہیں بلکہ پورے خیبر پختونخوا کے ہر گھر، ہر قوم پرست اور باشعور فرد کا اجتماعی غم ہے۔ وہ باجوڑ میں مولانا خان زیب شہید کے گھر تعزیت کے لیے پہنچے جہاں انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پشتون بیلٹ میں مسلسل آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، اور بدقسمتی سے آج بھی اس خطے کے عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔ مؤثر آوازوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خاموش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف باجوڑ میں پچھلے چند ماہ کے دوران متعدد سیاسی و سماجی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے کنونشن پر بم دھماکہ، ریحان زیب کی شہادت، سینیٹر ہدایت اللہ خان اور محمد حمید صوفی کا قتل، اور اب مولانا خان زیب کی المناک شہادت، یہ سب واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ خیبر پختونخوا بدترین بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ عنایت اللہ خان نے کہا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے، مگر بدقسمتی سے ریاستی ادارے اس ذمہ داری کی ادائیگی میں مسلسل ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ اربابِ اقتدار اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں جبکہ عوام مسلسل لاشیں اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر امن کے لیے یکجا ہوں۔ باجوڑ کی مقامی قیادت نے 13 جولائی کو جو "امن پاسون" کا اعلان کیا ہے، جماعت اسلامی اس کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کی ضلعی قیادت، کارکنان اور منتخب نمائندے اس عوامی آواز کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ عنایت اللہ خان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر غور کے لیے 29 جولائی کو پشاور میں ایک آل پارٹیز کانفرنس طلب کی ہے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین، قبائلی مشران، سماجی شخصیات اور مختلف مکاتب فکر کے نمائندگان کو مدعو کیا جائے گا۔ اس کانفرنس کا مقصد ایک مشترکہ مؤقف اور مستقبل کے لیے متفقہ لائحہ عمل طے کرنا ہے۔
انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متنبہ کیا کہ عوام میں مایوسی اور ریاستی اداروں سے بداعتمادی اپنی انتہاؤں کو پہنچ چکی ہے، اور اگر یہ کیفیت برقرار رہی تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ عوامی غصے کو سنجیدگی سے لیا جائے، اور فوری طور پر مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت، فرد یا قبیلے کا نہیں بلکہ پورے پشتون قوم کا مسئلہ ہے۔ جب یہاں امن ہوگا تب ہی سیاست، ترقی، تعلیم اور کاروبار ممکن ہو سکے گا۔ عوام سے اپیل ہے کہ 13 جولائی کو خوف کی زنجیریں توڑ کر باہر نکلیں اور امن کے لیے اپنی اجتماعی آواز بلند کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مولانا خان زیب عنایت اللہ خان خیبر پختونخوا جماعت اسلامی کہ عوام کے لیے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔