مولانا فضل الرحمان کا خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی خواہش کا اظہار،تبدیلی پی ٹی آئی کے اندر سے آنی چاہیے:سربراہ جے یو آئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
مولانا فضل الرحمان کا خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی خواہش کا اظہار،تبدیلی پی ٹی آئی کے اندر سے آنی چاہیے:سربراہ جے یو آئی WhatsAppFacebookTwitter 0 12 July, 2025 سب نیوز
پشاور(آئی پی ایس ) سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی خواہش کا اظہار کردیا۔پشاور میں مولانا فضل الرحمان کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردی ہورہی ہے، امن وامان کے حالات ٹھیک نہیں ہیں، سندھ میں ڈاکو راج ہے، ملک سے دہشت گردی کیسے ختم ہوگی؟ اب سے سوچنے کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری تجویز ہوگی صوبے میں تبدیلی آئے، خیبر پختونخوا میں تبدیلی پی ٹی آئی کے اندر سے آنی چاہیے، ہماری حکومت میں صوبے میں مکمل امن وامان تھا، صوبے میں تبدیلی کے متعلق فیصلہ پارٹی کی مشاورت سے کریں گے۔سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی اکثریت جعلی ہے ، ہمارا صوبہ کسی سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا، فاٹا کے لیے بغیر مشاورت بڑی ترمیم اور آئین میں اتنی بڑی تبدیلی کی گئی، آج اس ترمیم کو واپس کرنا ملکی مفاد میں ہے، فاٹا کا انضمام غلط فیصلہ تھا سیاسی پارٹیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات ہوتے ہیں ، ذاتی دشمنی نہیں، ہم مسلح گروہوں کوتسلیم نہیں کریں گے ، پی ٹی آئی اپنا رویہ تبدیل کرے تو بات ہو سکتی ہے، پی ٹی آئی کے نوجوان آتے ہیں میرے ساتھ بیٹھتے ہیں سوالات کرتے ہیں۔صحافی کے سوال کرنے پران کا کہنا تھا سینیٹ کے حوالے سے سیٹس ایڈجسٹمنٹ پر تبصرہ نہیں کرسکتا، پیپلزپارٹی سے کوئی شکایت پیدا ہوئی تو ان کے ساتھ بیٹھیں گے، امن وامان کے حوالے سے اے پی سی بلائی جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایک سو نوے ملین پا ئونڈ کرپشن کیس میں شہزاد اکبر کا مرکزی کردار ثابت،غیر قانونی سکیم کا ماسٹر مائنڈ بن کر پاکستان کو مالی نقصان پہنچایا:ذرائع ایک سو نوے ملین پا ئونڈ کرپشن کیس میں شہزاد اکبر کا مرکزی کردار ثابت،غیر قانونی سکیم کا ماسٹر مائنڈ بن کر پاکستان کو... وزیر داخلہ کی ہدایت ، چیئرمین سی ڈی اے کی پھرتیاں،، پلاننگ اور انوائرمنٹ ونگ کی نااہلی جناح اسکوائر پراجیکٹ نے ڈپلومیٹک انکلیو کو... سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات 59کھرب روپے سے تجاوز کرگئے فلسطینیوں کا اسرائیل کے قائم کردہ کیمپ میں منتقل ہونے سے انکار مشرق وسطی میں امریکی اڈوں کو دوبارہ نشانہ بناسکتے ہیں ، ایران محسن نقوی بحرین پہنچ گئے، گارڈ آف آنرز پیش، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر زور
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا میں تبدیلی مولانا فضل الرحمان سربراہ جے یو آئی پی ٹی آئی کے تبدیلی کی
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش