پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں سینیٹ انتخابات کے لیے ممکنہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر غور و مشاورت کی۔ یہ انتخابات 21 جولائی کو منعقد ہونے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کے پی سینیٹ انتخابات: ن لیگ، پی پی اور جے یو آئی کے انتخابی اتحاد کا امکان، ملاقاتوں کا سلسلہ جاری

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی قیادت میں پیپلز پارٹی کا وفد مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملا۔ وفد میں سید خورشید شاہ اور پارٹی کے صوبائی رہنما ظہیر شاہ بھی شامل تھے۔

 جے یو آئی (ف) کی جانب سے اکرم خان درانی، مولانا لطف الرحمان، مولانا اسد محمود، زاہد درانی اور اسجد محمود شریک ہوئے۔

ملاقات کے بعد جے یو آئی کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات سے متعلق مشاورت کی گئی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مولانا اسد محمود نے رواں ہفتے وزیراعظم شہباز شریف سے الگ ملاقات کی تھی، جب کہ اسی روز وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کا وفد بھی مولانا فضل الرحمان سے ملا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ یہ بات چیت اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سینیٹ میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے لیے مفاہمت پیدا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مسلم لیگ ن کے وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، سینیٹ انتخابات پر تبادلہ خیال

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے تھے۔

کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں، اور انہوں نے تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمان کے ماضی کے تعلقات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وفاداریاں بدلتی رہتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیپلز پارٹی جے یو آئی خورشید شاہ گورنر خیبرپختونخوا مولانا فضل الرحمان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی جے یو ا ئی خورشید شاہ گورنر خیبرپختونخوا مولانا فضل الرحمان مولانا فضل الرحمان سینیٹ انتخابات پیپلز پارٹی کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ

صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔

حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان