پنجاب اسمبلی نااہلی ریفرنس معاملہ، مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
لاہور( نیوز ڈیسک) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے معطل ارکان کیخلاف ریفرنس کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل پا گئیں۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ ریفرنس کے معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں، حکومتی کمیٹی میں مجتبیٰ شجاع الرحمان، سلمان رفیق، رانا ارشد، سمیع اللہ اور احمد اقبال شامل ہیں۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ علی حیدر گیلانی، شافع حسین اور شعیب صدیقی بھی حکومتی کمیٹی میں شامل ہیں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر احمد بھچر مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کمیٹی میں علی امتیاز، شیخ امتیاز، اعجاز شفیع کے نام آج اسپیکر کو ارسال ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن اور حکومتی اتحاد کی مذاکرتی کمیٹی کا دوسرا سیشن کل اتوار کو ہو گا، مذاکرات کامیاب ہونے پر اسپیکر معطل ارکان کیخلاف ریفرنس ڈارپ کر سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ 27 جون کو اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ کیا تھا اور توڑ پھوڑ کی تھی جس کے بعد اسپیکر نے اپوزیشن کے 26 ارکان کی رکنیت معطل کرتے ہوئے ان کی نااہلی کے لیے ریفرنس الیکشن کمیشن بھیجنےکا اعلان کیا تھا۔
ًمزید پڑھیں:لاس اینجلس میں تارکین وطن کی گرفتاریاں روکنے کا حکم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔