ہزاروں پاسپورٹ چوری ہونے کا معاملہ، تمام بلاک کردیے، ڈی جی کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
ڈی جی پاسپورٹ کا کہنا تھا کہ اِس معاملے میں جتنے پاسپورٹ جاری ہوئے ان کو بلاک کردیا گیا، اِن پاسپورٹس کی دوبارہ تجدید نہیں ہوئی اور نہ ہی ہوگی، یہ بہت ہی تشویش ناک معاملہ ہے۔ کنوینر کمیٹی کا کہنا تھا کہ جس طرح کے حالات ہیں اِن پاسپورٹ کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایبٹ آباد سمیت 25 پاسپورٹس آفس سے 32 ہزار 6 سو 74 پاسپورٹس چوری کے معاملہ پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ڈی جی پاسپورٹ کا کہنا ہے کہ اِس معاملے میں جتنے پاسپورٹ جاری ہوئے ان کو بلاک کردیا گیا، اِن پاسپورٹس کی دوبارہ تجدید نہیں ہوئی اور نہ ہی ہوگی، یہ بہت ہی تشویش ناک معاملہ ہے۔ کنوینر کمیٹی طارق فضل چودھری نے کہا کہ جس طرح کے حالات ہیں اِن پاسپورٹ کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے جب کہ حکام نے بتایا کہ 2 سال پہلے نادرا اور پاسپورٹ کا سائبر آڈٹ ہوا۔
ڈی جی پاسپورٹ کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہاں سے سعودی عرب گئے وہاں وزارت داخلہ نے اِن کو پکڑا، سعودی عرب نے افغان شہریوں سے وہاں سے ڈی پورٹ کیا ،اس واقعے کے بعد نادرا اور پاسپورٹ کا سسٹم مکمل ڈیجیٹائز کردیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب کوئی بھی جعلی کام کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے، اس سے قبل جعلی پاسپورٹ والوں کو نہ پکڑنے کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ کنوینر کمیٹی طارق فضل چودھری نے سوال کیا کہ مشکوک شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا تناسب کتنا فیصد ہوگا۔؟ دوسری جانب پی اے سی کی ذیلی کمیٹی نے ڈی جی پاسپورٹ کو انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈی جی پاسپورٹ ا ن پاسپورٹ پاسپورٹ کا کا کہنا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔