معطل ارکان کیخلاف ریفرنس: حکومت و اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 معطل ارکان کے خلاف ریفرنس کے معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں۔
ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی میں مجتبیٰ شجاع، سلمان رفیق، رانا ارشد، سمیع اللّٰہ، احمد اقبال، علی حیدر گیلانی، شافع حسین اور شعیب صدیقی شامل ہیں۔
اپوزیشن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر احمد بھچر مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے 26 معطل ارکان پنجاب اسمبلی کیخلاف نااہلی ریفرنسز پر کارروائی شروع 26 معطل ارکان پنجاب اسمبلی کیخلاف نااہلی ریفرنسز پر کارروائی شروع اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کی خلاف ورزی، اپوزیشن کے 26 ارکان 15 اجلاسوں کیلئے معطلذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن کمیٹی میں علی امتیاز، شیخ امتیاز اور اعجاز شفیع کے نام آج اسپیکر پنجاب اسمبلی کو ارسال ہوں گے۔
اپوزیشن اور حکومتی اتحاد کی مذاکرتی کمیٹی کا دوسرا سیشن کل اتوار کو ہو گا، مذاکرات کامیاب ہونے پر اسپیکر معطل ارکان کے خلاف ریفرنس ڈارپ کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کی خلاف ورزی پر اپوزیشن کے 26 ارکان کو 15 اجلاسوں کے لیے معطل کیا گیا تھا۔
اس حوالے سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا تھا کہ ایوان میں ہنگامہ آرائی، نعرے، دھکم پیل اور دستاویزات پھاڑنے پر کارروائی کی گئی، ایوان کی حرمت اور نظم و ضبط کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔ احتجاج کا حق تسلیم ہے لیکن اس کی حدود آئین، قانون اور قواعد کے تابع ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسپیکر پنجاب اسمبلی پنجاب اسمبلی کی معطل ارکان
پڑھیں:
سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت