پختونخوا اسمبلی: اسپیکرکا مخصوص نشستوں پر ارکان کے حلف کیلیے اجلاس بلانے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی مخصوص نشستوں پر ارکان کے حلف کے معاملے پر اسپیکر نے اجلاس بلانے سے معذرت کرلی۔ ذرائع اسپیکر کے
پی اسمبلی کے مطابق صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے میرے پاس کوئی اختیار نہیں۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اپوزیشن لیڈر کو جواب دے دیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے خیبر پختونخوا اسمبلی کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا تھا کہ 21 جولائی کو سینیٹ انتخابات کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی کا ہال فراہم کیا جائے۔ ن لیگ کے بحال ارکان نے الیکشن کمیشن کو خط میں کہا ہے کہ اسپیکر کے پی اسمبلی نے حلف کے لیے اجلاس بلانے سے انکار کر دیا ہے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو کہیں وہ حلف لینے کے لیے کسی کو نامزد کریں کیونکہ آرٹیکل 225 تین کے تحت ارکان کا حلف ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ کو حلف سے متعلق آگاہ کر دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق الیکشنز سے پہلے نئے ارکان کا حلف ضروری ہے، اسپیکر نئے ارکان کے حلف سے متعلق اقدامات کریں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق نئے ارکان کا ایک ہفتے میں حلف کا عمل مکمل کیا جائے جبکہ ناہیدہ نور، عارفہ بی بی اور گورپال سنگھ کا حلف نہ لیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا اسمبلی الیکشن کمیشن اجلاس بلانے کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے متعلق اپنا مؤقف آزاد کشمیر حکومت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کر کے وفاقی حکومت کے پیغام سے آگاہ کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ویلی کی نشستوں میں اضافے اور مہاجرین کی نشستوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد نمائندگی کے موجودہ تناسب میں توازن پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کل ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین اور ویلی نشستوں کے تناسب سے متعلق کسی بھی فیصلے کے آزاد کشمیر کی سیاسی ساخت اور انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تمام متعلقہ حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔