متحدہ ہندوستان کے باسی اور مذہبی سیاست
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
2018میں پاکستان سے ڈھائی لاکھ ہندو یاتری بھارت گئے۔ مودی نے انھیں کہا کہ ’’ پاکستان میں کیا رکھا ہے؟ وہاں آپ کو وہ آزادی نہیں ملے گی جو ہم دیں گے، آپ ہندو ہیں، آپ کا وطن بھارت ہے، آپ لوگ یہاں رہیں، ہم آپ کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کریں گے، آپ پاکستان کو بھول جائیں گے۔‘‘ یوں مودی نے مذہبی سیاست کا کارڈ استعمال کر کے انھیں بھارت ہی کو اپنا وطن بنانے کا کہا اور تمام تر سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا مگر وعدہ وفا نہ ہوسکا اور انھیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔
یہ پاکستانی ہندو مودی سرکار کے کہنے پر بھارت ہی میں رک گئے، یوں ان کے ویزے کی مدت ختم ہوگئی اور واپس پاکستان آنے کے قانونی راستے بھی ختم ہوگئے۔ اب یہ ہندو خاندان راجستھان میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان میں سے کچھ واپس پاکستان آنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ وہ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں،کھانے پینے کو محتاج ہیں، بیماریاں پھیل رہی ہیں، علاج کی کوئی سہولت نہیں،گندہ پانی پینے سے گردے میں پتھریاں ہوگئی ہیں، رات کو جنگلی جانوروں کا الگ خطرہ ہوتا ہے، پولیس آکر الگ تنگ کرتی ہے۔
مودی سرکار نے جو سنہرے مستقبل کے خواب دکھائے اور وعدے کیے، ان میں سے ایک بھی وعدہ پورا نہ کیا۔ اب تنگ آکر یہ لوگ واپس پاکستان آنے کو سوچتے ہیں مگر ان کے ویزے کی مدت ختم ہوچکی ہے، یوں یہ وہاں کیمپوں میں ایک عذاب کی زندگی گزار رہے ہیں۔
کہتے ہیں کہ انگریزوں نے جب تک ہندوستان پر حکومت کی ’’ عوام کو تقسیم کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل کیا اور پھر جاتے جاتے بھی آزادی کی پالیسی میں بھی اس تقسیم کو برقرار رکھا جس سے دونوں ملکوں کے عوام آج آزاد تو ہیں مگر وہ انگریز کی اس ’’ تقسیم کرو‘‘ کی پالیسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ آج یہ آزادی بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کی شکل میں نظر آتی ہے۔
پاکستان کے قیام کا مقصد بظاہر دو قومی نظریہ یعنی مذہبی نظر آیا جب کہ بھارت کا سیکولر نظریہ، یعنی دونوں نظریات میں اپنے اپنے عوام کی بہتری اور اچھے مستقبل کی بات شامل تھی، مگر آج بھی یہاں کے باسیوں کے مسائل ان نظریات سے شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بھارت میں تو ہمیشہ سے انتخابی سیاست ہندو مسلم ووٹ پر تقسیم دکھائی دی ہے مگر اس کے باوجود ان ممالک میں تقسیم ہونے والی عوام کی بڑی تعداد سخت قسم کے انسانی مسائل سے گزر رہی ہے۔
مودی سرکار پر ہندو پرست جماعت ہونے کا الزام ہے اور وہ خود بھی اس الزام کو اپنے سر لیتی ہے یعنی اس کا دعویٰ ہے کہ ان کی جماعت ہی ہندوؤں کے حقوق کی سب سے بڑی ضامن جماعت ہے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عملاً بھی ایسا ہی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آزادی کے بعد منقسم ہونے والے تمام خاندان بلا تفریق مذہب مسائل کا شکار ہیں۔ تمام خاندان اپنے سگے رشتے داروں کی شکل دیکھنے کو بھی ترستے ہیں وہ اپنے ہی رشتے داروں سے ملاقات نہیں کر سکتے ہیں۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ شاید مسلمان خاندان ہی ان مسائل سے دوچار ہیں جب کہ ایسا نہیں ہے ڈھائی لاکھ ہندوؤں کی بھارت میں کسمپرسی والی زندگی اس کا ثبوت ہے۔
قیام پاکستان کے بعد سے دونوں ملکوں کے مابین سفری سہولیات اور پالیسیاں دن بہ دن خراب سے خراب ہوتی چلی گئی۔ سندھ میں ایک بڑی تعداد بھارت سے ہجرت کرکے آئے ہوئے لوگوں کی ہے جنھیں اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لیے ممبئی بھی جانا ہو تو انھیں پہلے لاہور اور پھر امرتسر سے ایک لمبا چکر کاٹ کر جانا پڑتا ہے، حالانکہ کھوکھرا پار کے راستے سے یہ سفر آدھے سے بھی کم وقت میں طے ہو سکتا ہے مگر یہاں سے سفرکی سہولیات فراہم کرنے کی صرف خبریں ہی سننے میں آتی ہیں۔
عملاً کچھ نہیں ہوتا۔ ویزے کی سخت پالیسی کے سبب بھی منقسم خاندانوں کی اکثریت ایک دوسرے سے ملنے سے قاصر رہتی ہے۔ دونوں ملکوں کی پالیسیاں ہندو اور مسلم دونوں قوموں کے خاندانوں کے لیے اذیت کا باعث بنی ہوئی ہیں مگر یہ پالیسیاں تبدیل نہیں کی جاتیں، نہ ہی ان میں بہتری لائی جاتی ہے۔
دوسری طرف ایک اور تقسیم بھی ہے جو بنگلہ دیش کے قیام سے وابستہ ہے۔ 1971 سے مشرقی پاکستان میں رہنے والے پاکستانی جن کو عرف عام میں بہاری کہا جاتا ہے، ڈھائی لاکھ کی تعداد میں بنگلہ دیش کے کیمپوں میں محصورین کی زندگی گزار رہے ہیں، جہاں انسانی ضروریات کی اشیاء بھی دستیاب نہیں ہوتی۔ انھوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی مخالفت کی تھی اور پاکستانی فوج کا ساتھ دیتے ہوئے وطن کے لیے اپنی جان، مال اور عزتیں سب کچھ قربان کی تھیں، چنانچہ یہ آج بھی بنگلہ دیش میں رہنے کے بجائے پاکستان آنے کو ترجیح دیتے ہیں، اسی لیے انھوں نے کبھی بھی بنگلہ دیش کی شہریت کو قبول نہیں کیا اورکیمپوں میں ہی زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔
حکومت پاکستان کی جانب سے دو مرتبہ ان میں سے کچھ تعداد کو تو پاکستان لایا گیا مگر پھر یہ سلسلہ روک دیا گیا۔ ان کے خاندان اب تین اطراف تقسیم ہوچکے یعنی بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان۔
یوں دیکھا جائے تو متحدہ ہندوستان کی تقسیم جو پاکستان اور بھارت کی شکل میں ہوئی تھی اور دونوں اطراف کے عوام کو ایک اچھے مستقبل کے جو خواب دکھائے گئے تھے وہ خواب ان منقسم خاندانوں کے لیے شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔ آج یہ خاندان بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان میں تقسیم ہیں، ان کے سگے ماں باپ، بھائی، بہن وغیرہ سرحدوں کی تقسیم کے باعث ایک دوسرے سے ملنے کے لیے ترستے ہیں۔
بڑی عجیب اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان ملکوں کے رہنے والے دنیا بھرکے ملکوں میں بآسانی آجا سکتے ہیں، وہاں کا سفر بھی با آسانی کرسکتے ہیں لیکن جب اپنے ہی ملک کے پڑوس میں جانا ہو تو بے پناہ مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سب سے پہلے ویزہ ملنے کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے،کراچی جیسے بڑے انٹرنیشنل شہر میں رہنے والا بھی ویزہ حاصل کرنے کے لیے ملک کے دوسرے کونے میں جاکر پروسس کرتا ہے۔ ویزہ مل جائے اور بھارت چلا بھی جائے تو سوائے چند شہروں کے کہیں اور نہیں جا سکتا۔ کہنے کو بظاہر بھارت سیکولر ملک ہے مگر یہاں شعر و ادب کی کسی محفل، پروگرام یا تقریب میں جانے کے لیے بھی اس قدر مشکلات ہیں کہ لوگ پہلے ہی ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔
گویا متحدہ ہندوستان کے باسیوں نے انگریزوں سے آزادی تو حاصل کر لی مگر انگریزوں کی ’’ تقسیم کرو‘‘ کی پالیسی سے آج بھی آزادی حاصل نہیں کرسکے۔ دنیا عالمی گاؤں بن گئی مگر یہ تقسیم ہونے والے خاندان آپس میں مل بھی نہیں سکتے۔ فاصلوں کی یہ خلیج ختم کرنے کی ضرورت ہے مگر افسوس اب بھی مودی جیسے حکمران عوام پر مسلط ہیں جو عوام کے فاصلے کم تو کیا کرتے، اپنے ہی ہم مذہب ڈھائی لاکھ ہندو خاندانوں کو مزید تقسیم کر دیتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان ا نے ڈھائی لاکھ کی پالیسی بنگلہ دیش رہے ہیں کے لیے ہے مگر مگر یہ
پڑھیں:
علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی
مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔
تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔
علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔
چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔