بھارت کا انور رٹول آم جو پاکستان کا سفارتی تحفہ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 12 جولائی 2025ء) پاکستانی آموں کی بات ہو اور ’’انور رٹول‘‘ کا ذکر نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔ مٹھاس، خوشبو اور ذائقے میں اپنی مثال آپ، یہ آم صرف ایک پھل نہیں، ایک تاریخ ہے — ایک داستان ہجرت، یادوں، وعدوں اور ان دیکھی جڑوں کی، جو زمین کے ایک ٹکڑے سے دوسرے تک پھیل گئیں۔
پاکستانی آم اب بھارتی درختوں پر اگیں گے
یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جس انور رٹول آم کو آج پاکستان دنیا بھر میں ’’مینگو ڈپلومیسی‘‘ کا مرکزی کردار بنا کر بھیجتا ہے، اس کی جڑیں دراصل بھارت کے مغربی اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’’رتول‘‘ میں پیوست ہیں۔
اور یہ نام بھی یوں ہی نہیں رکھا گیا — اس آم کا نام انوار الحق نامی ایک شخص کے نام پر پڑا، جن کے بیٹے نے 1947 میں تقسیمِ ملک کے وقت اپنے ساتھ اس آم کا پودا لے کر پاکستان ہجرت کی، اور پھر اسے اپنے والد کے نام سے منسوب کر دیا۔(جاری ہے)
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق پبلک ریلیشنز آفیسر، راحت ابرار، ایک دلچسپ بات بتاتے ہیں کہ اگر ان کی والدہ ہجرت سے انکار نہ کرتیں تو شاید آج اس آم کا نام ’’ابرار‘‘ ہوتا۔
وہ کہتے ہیں ’’میرے تایا انوار الحق پاکستان چلے گئے۔ لیکن جانے سے پہلے انہوں نے اپنے ساتھ دو چیزیں لیں: ایک تو رتول گاؤں کا یہ نایاب آم، اور دوسرا اپنے چھوٹے بھائی سے وعدہ کہ وہ اپنے بیٹے کا نام ان کے نام پر رکھیں گے۔‘‘
بھارت کی دو ریاستیں آم پر کیوں لڑ رہی ہیں؟
یہی وہ وعدہ تھا جس نے راحت ابرار کو ان کا نام دیا — اور جس نے انور رٹول کو پاکستان کا شیریں سفارتی تحفہ بنا دیا۔
آم، سفارت کاری اور ضیاء الحقوقت گزرتا گیا، آم کی شاخیں پاکستان کے ملتان سے ہوتے ہوئے دنیا بھر میں پھیلتی گئیں۔ 1981 میں اس وقت کے پاکستانی صدر جنرل ضیاء الحق نے ایک کریٹ انور رٹول آم بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو بطور تحفہ بھیجا۔ گاندھی اس قدر متاثر ہوئیں کہ انہوں نے ذاتی طور پر ضیاء الحق کو خط لکھا اور ان آموں کی اعلیٰ کوالٹی اور ذائقے کی تعریف کی۔
’’پاکستان اور بھارت مختلف ضرور ہیں، مگر ساتھ چل سکتے ہیں‘‘
یہ وہ لمحہ تھا جب شاید خود بھارت کے رتول گاؤں کے کاشتکاروں کو احساس ہوا کہ ان کے گاؤں سے نکلنے والا ایک پودا آج عالمی سفارت کاری میں خوشبو بکھیر رہا ہے۔ انہوں نے اندرا گاندھی سے ملاقات کر کے اس آم کی تاریخ سے انہیں آگاہ کیا اور پھر خواہش کی کہ بھارت بھی ایسے آم پاکستان کو تحفے میں بھیجے۔
ایک پھل، دو قومیں، ایک تاریخآج انور رٹول صرف پنجاب نہیں، سندھ کے باغات میں بھی پوری آب و تاب سے چمکتا ہے۔ پاکستان ہر سال تقریباً 1.
پاک بھارت ثقافتی روابط: خرابی کی اصل وجہ بیوروکریسی، کرن راؤ
اور اب، جب اگلے ماہ بھارت اور پاکستان اپنی آزادی کی 78 ویں سالگرہ منانے جا رہے ہیں، تقسیم کا تلخ باب ایک بار پھر یاد آئے گا ، لیکن اس بار شاید انور رٹول کی مٹھاس ہمیں یاد دلائے کہ کچھ چیزیں سرحدیں پار کر کے بھی دلوں کو جوڑ سکتی ہیں۔ کہانیوں کے پیچھے کہانیاں ہوتی ہیں اور کبھی کبھار، وہ آم کی صورت میں کھِل اُٹھتی ہیں۔
ادارت: جاوید اختر
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انور رٹول کا نام
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔