امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان انسداد دہشت گردی کے حوالے سے جلد اہم مذاکرات ہونے جارہے ہیں جبکہ معاشی و اقتصادی تعلقات میں بھی مثبت پیش رفت دیکھنے میں آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان حالیہ ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی راہیں کھلی ہیں اور باہمی اشتراک میں وسعت آئی ہے۔

رضوان سعید شیخ نے یہ گفتگو ڈیلس میں معروف پاکستانی کمیونٹی لیڈر ڈاکٹر راؤ کامران کی رہائش گاہ پر دیے گئے ظہرانے کے موقع پر کی جہاں میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کے دوران انہوں نے پاک امریکا تعلقات، تجارتی پالیسی اور علاقائی سیاست پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

تقریب میں ممتاز پاکستانی نژاد امریکی ڈیموکریٹک رہنما طاہر جاوید، امریکا میں پاکستان کے قونصل جنرل آفتاب چوہدری اور امریکا بھر سے آئے ہوئے پاکستانی نژاد ڈاکٹرز و دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی بڑی تعداد شریک تھی۔

ایک سوال کے جواب میں سفیر رضوان شیخ نے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی پالیسی آج بھی وہی ہے جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فلسطین کے بارے میں اختیار کی تھی، اور یہ اصولی مؤقف آج بھی برقرار ہے۔

تجارتی معاملات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کو اضافی ٹیرف سے مستثنیٰ قرار دینے کے لیے دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور اس ضمن میں حوصلہ افزا پیش رفت ہو رہی ہے، اگرچہ یہ ایک پیچیدہ اور وقت طلب عمل ہے۔

انہوں نے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل معیشت کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ پاکستان میں کرپٹو مائننگ سمیت ٹیکنالوجی سے متعلق سرمایہ کاری کے لیے بجلی کے وافر ذخائر موجود ہیں، جس سے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

اس موقع پر تقریب سے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی چوہدری احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا اور پاکستان کی موجودہ سیاسی، اقتصادی اور دفاعی صورتحال پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے حکومت پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے نئے منصوبہ جات اور وژن سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کے درمیان انہوں نے

پڑھیں:

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.

???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS

— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026

تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن

متعلقہ مضامین

  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟