Express News:
2026-06-03@04:26:29 GMT

ایران کا جوہری مذاکرات کے لیے نئی شرائط کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT

TEHRAN:

ایران نے جوہری پروگرام سے متعلق آئندہ مذاکرات کے لیے نئی شرائط کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں یورینیم افزودگی کا حق تسلیم کرنا لازم ہوگا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کے حق کے بغیر کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا، کیونکہ یہ حق ایران کی خودمختاری، سائنسی ترقی اور پُرامن ایٹمی توانائی کے استعمال سے وابستہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اس حق کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اور ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے کہ جوہری توانائی صرف پُرامن مقاصد کے لیے استعمال ہوگی۔

قطری خبر رساں ادارے کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ اگر ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کی گئیں تو یہ یورپ کے سفارتی کردار کے اختتام کے مترادف ہوگا۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ایسی کوئی پابندیاں لگتی ہیں تو ایران کے ایٹمی پروگرام میں یورپی شراکت داری مکمل طور پر ختم تصور کی جائے گی۔

عباس عراقچی کے مطابق، ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں وقت، مقام، نوعیت، شرائط اور ضمانتوں پر مشاورت جاری ہے۔

تاہم انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ ممکنہ مذاکرات صرف جوہری معاملات تک محدود ہوں گے اور دفاعی امور پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ایران جوہری بم کو "غیر اسلامی اور غیر انسانی" تصور کرتا ہے اور ان کا ملک صرف پُرامن ایٹمی پروگرام کا حامی ہے۔

واضح رہے کہ2015 کے جوہری معاہدے، جسے مشترکہ جامع پلان آف ایکشن (JCPOA) کہا جاتا ہے کی بحالی پر بات چیت کے دوران ایران کی جانب سے یہ سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت صدارت میں اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا،جس کے بعد ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں آئندہ ردعمل زیادہ فیصلہ کن اور افسوسناک ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عباس عراقچی کہ ایران کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟