مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو دوبارہ نشانہ بناسکتے ہیںِایرانی سپریم لیڈر کی امریکی کو دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کو واضح پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو دوبارہ نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ قطر میں العدید ائر بیس پر ہونے والا حملہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑی کامیابی تھی، اور ایسا دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔ غیر ملکی میڈیا
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران خطے میں امریکی اڈوں تک باآسانی پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اگر واشنگٹن نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو مزید کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی تھی کہ 23 جون کو ایران کی جانب سے فائر کیا گیا بیلسٹک میزائل قطر میں امریکی العدید ائر بیس پر مواصلاتی نظام کے اہم حصے پر گرا تھا، جس کی سیٹلائٹ تصاویر بھی سامنے آ چکی ہیں۔ ان تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ حملے سے بیس کے کمیونیکیشن ڈوم کو شدید نقصان پہنچا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں امریکی
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔