اپنے ایک انٹرویو میں ٹام باراک کا کہنا تھا کہ اگر لبنان نے مؤثر اقدامات نہ کئے تو یہ ملک خطے کے دیگر عناصر کے زیر تسلط آ سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ٹام باراک نے لبنان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کرتے ہوئے اس ملک کو ٹوٹ پھوٹ کے خطرے سے دوچار ہونے کی دھمکی دی۔ ٹام باراک ترکیہ میں امریکی سفیر ہونے کے ساتھ ساتھ، ڈونلڈ ٹرامپ کے نمائندہ برائے شامی امور بھی ہیں۔ انہوں نے پانچ روز قبل بیروت کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے لبنانی حکام سے ملاقات کے دوران امریکی منصوبے کے جواب میں بیروت کی جانب سے سات صفحوں پر مشتمل جوابی دستاویز وصول کی۔ اس دورے کے بعد امریکی نمائندے نے ایک عرب اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر لبنانی حکام، حزب الله کو غیر مسلح کرنے کے معاملے پر لاپرواہی برتتے رہے تو لبنان کو وجودی خطرے کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کئے گئے تو یہ ملک خطے کے دیگر عناصر کے زیر تسلط آ سکتا ہے۔ ٹام باراک نے کہا کہ ایک جانب اسرائیل ہے تو دوسری جانب ایران اور اب تو شام بھی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اگر لبنان نے اقدام نہ کیا، تو یہ دوبارہ شام کا حصہ بن سکتا ہے۔انہوں نے "سرزمین شام" کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے اُس تاریخی خطے کی جانب اشارہ کیا جو جنگ عظیم او٘ل سے پہلے شام، لبنان، اُردن اور فلسطین پر مشتمل تھا۔

ٹام باراک نے کہا کہ شامی کہتے ہیں کہ لبنان ہمارا ساحلی علاقہ ہے۔ اس لیے اس کے حصول کے لئے ہمیں کام کرنا چاہیے۔ میں لبنانی عوام کی مایوسی کو سمجھتا ہوں۔ یہ صورتحال میرے لئے بھی مایوس کُن ہے۔ واضح رہے کہ شامیوں کی جانب سے لبنان پر تسلط کا امریکی دعویٰ کسی ثبوت یا دستاویز سے خالی ہے۔ جو محض ٹام باراک کی ذاتی رائے معلوم ہوتا ہے۔ ٹام باراک کے مطابق، امریکہ، سعودی عرب اور قطر لبنان کی مدد کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ بیروت عملی اقدامات کرے اور اندرونی اصلاحات شروع کرے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکہ نے گزشتہ جون میں لبنانی حکام کو ایک باقاعدہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں حزب الله کو غیرمسلح کرنے اور وسیع معاشی اصلاحات کی تجویز شامل تھی۔ یہ منصوبہ بین الاقوامی مالی امداد حاصل کرنے کی شرط ہے۔ امریکی منصوبے کے مطابق، صہیونی رژیم کی جارحیت کو روکنا اور لبنان کی تعمیر نو میں مدد، حزب الله کے مکمل غیر مسلح ہونے سے مشروط ہے۔ دوسری جانب اس نئی امریکی سازش کے خلاف حزب‌ الله نے ایک واضح اور تنقیدی موقف اختیار کیا۔

اس بارے میں یوم عاشورہ کے موقع پر حزب‌ الله کے سیکرٹری جنرل "شیخ نعیم قاسم" نے مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی درخواست پر تعجب کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن ہم سے وہ میزائل حاصل کرنا چاہتے ہیں جو ہماری دفاعی طاقت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ہم ایک آزاد، باعزت اور خود مختار ملک میں زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایک ذو معنی توازن کی بات کرتے ہیں، کہ یا تو ہتھیار ڈال دو یا مارے جاؤ۔ حالانکہ ہم اس مرحلے کو گزار چکے ہیں۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ ہماری لغت میں ہتھیار ڈالنے کا کوئی تصور نہیں، ہم مردِ میدان ہیں۔  ہم حق کے لیے دشمن کے باطل کے خلاف ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ٹام باراک نے کہا کہ انہوں نے کیا کہ

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران