پاکستان اور بنگلادیش ٹی 20 سیریز کے میڈیا رائٹس فروخت
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان ہونے والی ٹی 20 سیریز کے میڈیا رائٹس فروخت ہوگئے۔بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بی سی بی پاکستان کے خلاف 3 میچز کی سیریز کے ورلڈ وائیڈ میڈیا رائٹس فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔میڈیا رائٹس اوپن بڈنگ میں فروخت ہونا تھے لیکن کوئی کمپنی فلور پرائس تک نہ پہنچ سکی، رائٹس کی 4 کروڑ ٹکا فلور پرائس رکھی گئی، نصف تک کی بھی پیشکش نہ ہوئی۔بورڈ آفیشل کا کہنا ہے کہ پیشکشیں احمقانہ تھیں کچھ کمپنیز سے براہ راست رابطہ کیا گیا، بورڈ کو ٹارگٹ کے مطابق رقم موصول ہوگئی ہے۔واضح رہے کہ بی سی بی بنگلادیش اور نیوزی لینڈ ٹیسٹ سیریز کے رائٹس بھی فروخت نہیں کر سکا تھا۔پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان میچز 20، 22 اور 24 جولائی کو کھیلے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: میڈیا رائٹس سیریز کے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔