بابوسر ٹاپ: 5 سے زائد افراد جاں بحق، مسافروں کیلئےنئی سفری ہدایات جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
ویب ڈیسک :بابوسر ٹاپ کے مقام پر حالیہ شدید موسم کے باعث بہہ جانے والے 15 سیاح تاحال لاپتہ ہیں، 5 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ،تاہم شاہراہ بابوسر پر پھنسے تمام سیاحوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان کا سفر کرنے والوں کے لیے نئی سفری ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق ایک انٹرویو میں کہا کہ بارش اور سیلاب سے گلگت میں 5 اموات ہوئیں ، شاہراہ قراقرم 2 مقامات سے بند ہے ، جس کی وجہ ہزاروں مسافر پھنسے ہوئے ہیں ،عوام حالات معمول پر آنے تک سیاح گلگت بلتستان کا سفر نہ کریں۔
مون سون بارشیں, پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
دوسری جانب وزیر اطلاعات گلگت بلتستان ایمان شاہ نے ہم نیوز کے پروگرام صبح سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلابی صورتحال سنگین ہے اور کلاؤڈ برسٹنگ کے واقعات پیش آ رہے ہیں، بابو سر میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سیلابی ریلے میں 18 سے زائد گاڑیاں بہہ گئی ہیں، سیلاب سے متاثرہ افراد کو ریسکیو کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔