سبزی فروش کے بیٹے کی محنت رنگ لے آئی؛ والدین اور اساتذہ کا سر فخر سے بلند کردیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
لاہور:
سبزی فروش کے بیٹے نے محنت سے پڑھائی کرکے میٹرک بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کرلی۔
سرکاری اسکول میں پڑھنے والے ہونہار طالب علم نے میٹرک کے امتحانات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کر کے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ تعلیمی ادارے کا بھی نام روشن کر دیا۔
گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 1 شاہکوٹ کے طالبعلم ملک فیضان رضا، جس کے والد سبزی فروش ہیں، نے لاہور بورڈ کے میٹرک امتحانات میں 1186 نمبروں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔
فیضان رضا کی شاندار کامیابی پر ان کے اساتذہ، والدین اور اسکول انتظامیہ فخر محسوس کر رہے ہیں۔ پرنسپل کے مطابق فیضان کی لگن، مسلسل محنت اور مثالی کارکردگی اسکول کے لیے اعزاز کا سبب بنی ہے۔
فیضان رضا کا کہنا ہے کہ اس کی کامیابی اس کے اساتذہ کی رہنمائی اور والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ اس نے ثابت کر دیا کہ وسائل کی کمی کبھی بھی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی اگر انسان میں جذبہ، محنت اور عزم موجود ہو۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی نہ صرف فیضان کے والدین کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ دیگر طلبہ کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ محنت اور استقامت کے ساتھ کسی بھی منزل کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔