لاہور (لیڈی رپورٹر+ نامہ نگاران) لاہور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے میٹرک سالانہ امتحانات (فرسٹ اینول) 2025 کے پوزیشن ہولڈرز کے ناموں کا اعلان کر دیا۔ گزشتہ روز سیکرٹری و کنٹرولر لاہور بورڈ رضوان نذیر نے پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ 1193 نمبر حاصل کر کے لاہور بورڈ میں مجموعی طور پر پہلی پوزیشن دار ارقم گرلز ہائی سکول الہ آباد ضلع قصور کی طالبہ حرم فاطمہ رولنمبر 115235 نے حاصل کی۔ پاک گیریژن گرلز سکول ننکانہ صاحب کی طالبہ نورالہدیٰ رولنمبر 119842 اور پاک گیریژن ہائی سکول بوائز ننکانہ صاحب کے طالب علم رولنمبر 220365 حاجی ابوذر تنویر 1188 نمبر لیکر مشترکہ طور پر دوسری پوزیشن پر رہے جبکہ پنجاب بوائز سکول ٹائون شپ لاہور کے طالب علم محمد علی رولنمبر 254976 نے 1187 نمبر حاصل کر کے مجموعی طور پر تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔ کنٹرولر لاہور بورڈ رضوان نذیر نے کہا کہ نقل کی روک تھام کیلئے اقدامات مثبت رہے۔ رواں سال رولنمبر سلپ پر کیو آر کوڈ لگا کر پیپر لیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال 11 ہزار سے زائد سٹاف نے امتحان میں ڈیوٹیاں دیں۔ لاہور بورڈ کے نتائج کے مطابق سائنس گروپ (بوائز) میں حاجی ابوذر تنویر نے پہلی، محمد علی نے دوسری جبکہ محمد ذہاب صدیقی رولنمبر 231322 اور فیضان رضا رولنمبر 223304 نے 1186 نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ سائنس گروپ(طالبات) میں حرم فاطمہ نے 1193 نمبر حاصل کر کے پہلی پوزیشن، نورالہدی نے 1188 نمبر حاصل کر کے دوسری جبکہ پنجاب گرلز ہائی سکول ٹاؤن شپ لاہور کی طالبہ رولنمبر 156402 عائشہ محی الدین اور دی ایجوکیٹرز سکول لاہور کی طالبہ فاطمہ فیصل رولنمبر 170337 نے 1186 نمبر حاصل کر کے مشترکہ طور پر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ نتائج کے مطابق ہیومینٹیز گروپ (بوائز) میں پرائیویٹ طالب علم ابوبکر رولنمبر 344915 نے 1088 نمبر لے کر پہلی، محمد طلحہ پرائیویٹ طالب علم رولنمبر 345066 نے 1074 نمبر حاصل کرکے دوسری جبکہ لاہور کے نجی سکول کے طالب علم غلام عباس نے 1065 نمبر لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ہیومینٹیز گروپ (طالبات) میں پہلی پوزیشن گورنمنٹ گرلز ہائی سکول فاروق آباد کی طالبہ حافظہ عمارہ اشرف رولنمبر 307511 نے 1154 نمبر لے کر، دوسری پوزیشن پنجاب گرلز ہائی سکول ٹاؤن شپ کی طالبہ ایفا عثمان رولنمبر 322027 نے 1149 نمبر لے کر جبکہ شاہ جمال لاہور کے نجی سکول کی طالبہ زینب بنت عاصم بٹ رولنمبر 322763 نے 1141 نمبر لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پوزیشن حاصل کرنے والے امیدواران کے اعزاز میں آج 24 جولائی کو خصوصی تقریب منعقد ہوگی جس میں وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات اور ٹاسک فورس کے چیئرمین میاں مزمل محمود انعامات اور سرٹیفکیٹ تقسیم کریں گے۔گوجرنوالہ ایجوکیشن بورڈ کے میٹرک پارٹ ٹو فرسٹ اینول 2025 میں پہلی 3 ٹاپ پوزیشنوں میں 7 پر لڑکیاں اور 3پر بوائز آئے۔  نتائج کے مطابق تین امیدواروں نے بورڈ ٹاپ کیا۔ شفاعت رسول، علیشہ زیب اور فاطمہ شیراز نے برابر 1187نمبر لے کر مشترکہ طور پر بورڈ ٹاپ کیا۔ محمد موحد شہزاد اور محمد عبداللہ نے 1186نمبر لے کر بورڈ میں مجموعی طور پر سیکنڈ پوزیشن حاصل کی۔ اوور آل تیسری پوزیشن 5طالبات کے حصہ میں آئی، جن میں ارحہ فرحان، روبائشہ اشرف، ہانیہ خان، حرم فاطمہ اور کشمالہ اعجاز شامل ہیں، جنہوں نے برابر 1185نمبر حاصل کیے۔ سائنس گروپ بوائز میں شفاعت رسول نے پہلی، محمد عبداللہ اور محمد موحد شہزاد نے مشترکہ طور پر دوسری اور محمد عبداللہ قاسم نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ سائنس گروپ گرلز میں 2 طالبات فاطمہ شیراز اور علیشہ زیب فرسٹ آئیں، جنہوں نے برابر 1187نمبر حاصل کئے ۔ سیکنڈ پوزیشن پر 5طالبات آئیں، جن میں کشمالہ اعجاز، ہانیہ خان، ارحہ فرحان، روبائشہ اشرف اور حرم فاطمہ شامل ہی، جنہوں نے برابر 1185نمبر حاصل کئے۔ تیسری پوزیشن پر دو طالبات زوویبہ وحید اور مریم واحد آئیں، جنہوں نے 1183نمبر حاصل کئے۔ جنرل گروپ بوائز میں فرحان خالد نے 1158نمبر حاصل کر کے اول، محمد فیضان نے 1131نمبر لے کر دوم اور اکاشہ اعظم نے 1109نمبر لے کر سوم پوزیشن حاصل کی۔ جنرل گروپ گرلز میں تینوں پوزیشنز پر سرکاری سکول کی طالبات کی آئیں، جن میں مومنہ رئوف نے 1164نمبر لے کر پہلی، کومل شفیق نے 1132نمبر لے کر دوسری اور ماہ نور 1129نمبر لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس موقع پر کمشنر سید نوید حیدر شیرازی نے بتایا کہ امتحانات کے انعقاد سے لے کر نتائج کی تیاری تک شفاف انتظامات کئے گئے تھے۔ نوائے وقت کے ایک سوال پر کہ بورڈ کی تاریخ میں میٹرک میں پہلی بار 19طلبہ نے ٹاپ پوزیشن حاصل کی ہیں۔ پنجاب کالج تلہ کنگ چکوال کی ہونہار طالبہ بسمہ علی نے راولپنڈی بورڈ میں 1177 نمبروں کے ساتھ دوسری پوزیشن اپنے نام کی اور سائنس گروپ میں اول قرار پائیں۔ الائیڈ سکول سرگودھا کے شاہ میر رؤف نے 1180 نمبروں کے ساتھ سائنس گروپ میں تیسری پوزیشن لی۔ الائیڈ سکول فیصل آباد کی ایمن فاروق نے  1185 نمبروں کے ساتھ  سائنس گروپ میں تیسری پوزیشن کی حقدار ٹھہریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: تیسری پوزیشن حاصل کی نمبر حاصل کر کے گرلز ہائی سکول مشترکہ طور پر سائنس گروپ لاہور بورڈ نمبر لے کر حرم فاطمہ جنہوں نے کی طالبہ طالب علم کے ساتھ

پڑھیں:

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

مراد راس صاحب سابق صوبائی وزیر ہیں، لاہور سے 2 بار رکن اسمبلی رہے۔ پہلے تحریک انصاف سے تعلق تھا، انہی کے دور میں صوبائی وزارت ملی۔ اب تحریک استحکام پاکستان میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں، نام کےساتھ ڈاکٹر بھی لگتا ہے، معلوم نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا پی ایچ ڈی۔

بہرحال ان کے حالیہ ٹوئٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ موصوف نے ٹوئٹ کیا، ‘لاہور ان عید کی چھٹیوں میں بہت پرسکون تھا، خاص کر ٹریفک بہت کم تھی۔ یہ آؤٹ سائیڈرز ہیں جنہوں نےلاہور تباہ کیا ہے‘۔

بات سادہ ہے مگر غلط ہے، بلکہ بہت غلط ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس  ٹوئٹ کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور تکلیف دہ کہا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ٹوئٹ کرنے والا شخص پڑھا لکھا نہیں، اسےدنیا کا قطعی علم نہیں، کسی بھی بڑے بین الاقوامی شہر کا تو شاید اس نے نام بھی نہیں سنا۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ اسے لاہور کی ہسٹری کا بھی کچھ نہیں پتا۔

یہ بھی پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں

خاکسار معروف معنوں میں لاہوری نہیں، آبائی شہر احمدپورشرقیہ، ضلع بہاولپور ہے۔ تاہم میں 31،32 برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں، میرے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں پر پلے بڑھے ہیں، الحمدللہ۔ میں کوئی 10، 12 برسوں سےہر عید لاہور ہی میں کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو لاہوری تصور کرتا ہوں، اس لیے کہ اس شہر نے مجھے بے پناہ محبت، عزت دی۔ جو تھوڑی بہت پہچان ہے، وہ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے۔ لاہور کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے مکین یعنی لاہوری ہیں۔ جتنی اوپن نیس، کشادگی اور کھلا ڈلا پن میں نے لاہوریوں میں دیکھا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو یہ باہیں پھیلا کر قبول کرتے اور اپنے دل میں سمو لیتےہیں۔

ایسے میں بہت افسوسناک امر ہے کہ ڈاکٹر مراد راس جیسے لوگ جو گجرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے گجراتی شناخت بھی رکھتے ہیں، پرانےلاہوریے نہیں ، اپنے ایک نفرت انگیز ، متعصبانہ ٹوئٹ کی وجہ سے پورے لاہور شہر کے مکینوں کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ مراد راس کا یہ ٹوئٹ لاہور اور لاہوریوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔

مزید پڑھیے: نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

چلیں بات شروع ہوئی ہے تو ویسے ہی اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں کہ لاہور کو وہ لاہور بنایا کس نے ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ سب سےبڑا سہرا تو مغلوں کے سر جاتا ہے جو سمرقند اور کابل سے آئے تھے۔ مقبرہ جہانگیر، کامران کی بارہ دری، شالیمار باغ، مسجد وزیر خان وغیرہ کس نے بنائے؟باہر سے آنے والے مغلوں نے ۔انارکلی بازار کا نام کس کے نام پر ہے؟ ایک ایسی لڑکی کے نام پر جو اس شہر کی اصل باشندہ بھی نہیں تھی۔ لاہور کا مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، شہر کا سب سے حسین سرسبز علاقہ ماڈل ٹاؤن، یہ سب ’باہر والوں‘ نے بنائے۔ یہ سب باہر سے آئے اوراس شہر کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کر گئے۔ لاہور کے کھانوں، کلچر میں بہت بڑا حصہ کشمیریوں کا ہے۔ یہ کشمیر سے لاہور اور امرتسر میں آ کر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد امرتسری(امبرسری) کشمیری  مسلمان بھی لاہور آ گئے اور آج امبرسریوں کےکھابے ملک بھر میں مشہور ہیں۔

اب ذرا دنیا کو دیکھیں۔

یورپ کے سب سے اہم شہر لندن کا میئر آج صادق خان ہے، پاکستانی نژاد، جنوبی لندن کے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا۔ لندن والے اس پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کا شہر ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کا گھر رہا ہے۔ رومن آئے، نارمن آئے، فرانسیسی آئے، یہودی آئے، ہندوستانی آئے، پاکستانی آئے، ہر آنے والے نے اس شہر میں کچھ جوڑا۔ اگر لندن نے کسی موڑ پر یہ سوچ لیا ہوتا کہ ’باہر والوں نے ہمیں خراب کر دیا‘ تو آج وہ ایک گمنام صوبائی قصبہ ہوتا، دنیا کا مالیاتی مرکز نہیں۔

نیویارک کو دنیا سٹی آف امیگرنٹس کہتی ہے۔ اب تو اس کا میئر ظہران ممدانی بھی ایک امیگرنٹ ہی ہے۔ وہاں ایلس آئی لینڈ پر ایک میوزیم ہے جو ان لاکھوں تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو یورپ، ایشیا، افریقہ سے جہاز پر سوار ہو کر آئے اور امریکا کو امریکا بنایا۔ انہیں شرمندگی نہیں دلائی گئی، ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا گیا۔ نیویارک کی وہ عمارتیں جنہیں آج دنیا دیکھتی ہے، ان کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے کسی ’باہر والے‘ کا پسینہ ہے۔

دبئی کی مثال اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ وہاں اصل اماراتی شہری آبادی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ 85 سے 90 فیصد لوگ ’باہر والے‘ ہیں، پاکستانی، ہندوستانی، فلپینی، بنگلہ دیشی، یورپی۔ دبئی نے انہیں دھتکارا نہیں، خوش آمدید کہا۔ نتیجہ سامنے ہے، ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہونے والا شہر آج دنیا کا سب سے چمکدار شہر ہے۔ اگر عرب امارات کے بادشاہوں  نے بھی یہ سوچا ہوتا کہ باہر والے ہمیں خراب کریں گے تو دبئی آج وہ ترقی یافتہ دبئی نہ ہوتا۔

واپس لاہور آتے ہیں۔

آج لاہور میں جو کاروبار ہے، جو محنت ہے، جو تعمیر ہے، اس میں گوجرانوالہ،  گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، جھنگ، ڈیرہ غازی خان سے آنے والوں کا حصہ اتنا ہی ہے جتنا کسی نسل در نسل لاہوری کا۔ وہ مزدور جو ڈیفنس کی کوٹھیاں بناتا ہے، وہ ریڑھی والا جو گلبرگ کو پھل فروخت کرتا ہے، وہ درزی جو اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سلائی کرتا ہے، یہ سب ’باہر والے‘ ہیں۔ انہیں نکال دیں تو لاہور کی رونق ایک دن میں ختم ہو جائے۔

ایک بات اور۔ لاہور کا ٹریفک اور آلودگی عید پر اس لیے کم ہوئی کہ ’باہر والے‘ اپنے گھروں کو گئے۔ یعنی اصل مسئلہ آنے والوں کا نہیں، شہر کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے۔ وہ منصوبہ بندی جو انہی ’اندر والے‘ حکمرانوں کی دین ہے جو دہائیوں سے لاہور پر راج کرتے آئے ہیں۔

آخری بات، مراد راس صاحب خود گجرات میں پیدا ہوئے، تعلیم امریکا میں حاصل کی، ان کی امریکی شہریت کی بات بھی چلتی رہی ہے۔ لاہور کی نشست سے سیاست کی۔ تو پھر وہ ’اندر والے‘ کیسے اور گجرات سے آنے والا مزدور ’باہر والا‘ کیسے؟

مزید پڑھیں: کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

شہر اینٹوں سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ ہر طرف سے آتے ہیں۔ یہی کسی شہر کی اصل دولت ہے۔ درحقیقت اہل دانش کہتےہیں کہ ترقی ہی وہ گلو یا گوند ہے جو باہر سےلوگوں کو، سرمایے کو اور اہل ہنر کو کھینچتی ہے۔ ترقی دراصل وہ گریوٹی ہے جو اپنی کشش اور قوت سے باہروالوں کو اندر لاتی ہے اور ان کی وجہ سے وہ شہر جگمگاتا ہے۔ جس شہر میں باہر سے لوگ جانا بند کر جائیں، وہ کسی کمھلائے ہوئے پھول کی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کاش مراد راس جیسے لوگ قوت بینا رکھتے، دل کی آنکھیں ہی کھول کر جینا سیکھ لیتے۔ تب ایسی دل آزاری والے ٹوئٹ ہرگز نہ لکھے جاتے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

آؤٹ سائیڈرز احمد پور شرقیہ لاہور لاہور کس نے بنایا لاہور کے اندر والے باہر والے لندن کا میئر مراد راس نیویارک کا میئر

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی