دودھ نہ ملنے پر غزہ میں 40 ہزار بچوں کی اموات کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
عرب میڈیا کے مطابق غزہ سرکاری میڈیا آفس کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل ایک لاکھ بچوں کی زندگی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ حکومتی میڈیا آفس نے بتایا کہ غزہ میں دودھ نہ ملنے کے سبب کچھ ہی دنوں 40 ہزار بچوں کی اموات کا خدشہ ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق غزہ سرکاری میڈیا آفس کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل ایک لاکھ بچوں کی زندگی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ غزہ میں بچوں کے دودھ اور غذائی سپلیمنٹس مکمل طور پر ناپید ہوچکے ہیں۔ اس میں مزید کہا گیا کہ غزہ میں ہمیں جان بوجھ کر ایک قتل عام کا سامنا ہے، جو اسرائیل ان بچوں کے خلاف کر رہا ہے، بچوں کی مائیں ان کو دودھ پلانے کے بجائے پانی پلانے پر مجبور ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا گیا کہ بچوں کی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔