سندھ حکومت بارشوں کے بڑے اسپیل سے نمٹنے کیلئے تیار(غیر قانونی تعمیرات کیخلاف کارروائی جاری)
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
جلا ئوگھیرائو کا ماسٹر مائنڈ اس وقت اڈیالہ جیل میں ہے، اور ہم انتشار کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں،شرجیل میمن
59عمارتیں خالی کرائی جا چکی ہیں، حکومت چھ ماہ کا کرایہ کرایہ داروں کو فراہم کر رہی ہے، میڈیا سے بات چیت
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری بارشوں کے سلسلے کے باعث ناردرن ایریاز میں شدید نقصان ہوا ہے، تاہم سندھ حکومت مکمل الرٹ ہے اور کسی بھی صوبے کو ضرورت پڑی تو ہم امداد کے لیے حاضر ہیں۔ سیاسی معاملات پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ کسی سیاسی رہنما کو سزا ملنے پر پیپلز پارٹی کو خوشی نہیں ہوتی، لیکن اگر کوئی جلاؤ گھیراؤ کرے تو اسے معاف نہیں کیا جا سکتا۔ ملکی املاک کو آگ لگانا سیاست نہیں، بلکہ دہشتگردی ہے۔ ایسے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلا گھیرا کا ماسٹر مائنڈ اس وقت اڈیالہ جیل میں ہے، اور ہم انتشار کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ اب تک 59عمارتیں خالی کرائی جا چکی ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن جاری ہے، اور حکومت چھ ماہ کا کرایہ کرایہ داروں کو فراہم کر رہی ہے۔سندھ حکومت نے 2010 سے اب تک کئی بار شدید بارشیں اور سیلاب دیکھے ہیں، اس لیے ہم ہر ممکن انتظامات کے ساتھ تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی امداد یا انتظامیہ کی ضرورت ہوگی، سندھ حکومت اپنی خدمات پیش کرے گی۔ صوبے میں بڑے اسپیل آنے کی صورت میں پوری مشینری تیار ہے، اور انتظامیہ پہلے ہی سے الرٹ پر ہے۔بلوچستان میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شرجیل میمن نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔شرجیل میمن نے بتایا کہ کاروباری طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں، آن لائن اور ون ونڈو آپریشن کا آغاز ہوگا، اور اس وقت پاکستان میں کاروبار کے لیے سنہری موقع موجود ہے۔لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے فوری اور سخت ایکشن لیا ہے۔ مخدوش عمارتوں کو خالی کروایا جا رہا ہے، عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی تعمیرات کی اطلاع دیں، کیونکہ ان سے قیمتی انسانی جانیں خطرے میں پڑتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ شرجیل میمن سندھ حکومت کرتے ہوئے کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان