ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے ایک سنگین خودکار ترجمے کی غلطی پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اس مسئلے کو حل کر دیا ہے، جس کے باعث اس کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھارتی سیاستدان اور کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیاہ کی موت کی جھوٹی خبر جاری ہوئی۔

کرناٹکا کے وزیراعلیٰ سدارمیاہ نے حال ہی میں مشہور بھارتی اداکارہ بی سروجادیوی کے انتقال پر خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ انہوں نے یہ پیغام مقامی زبان کنڑا میں انسٹاگرام پر شیئر کیا۔ تاہم میٹا کے خودکار ترجمے کے نظام نے اس پیغام کو غلط انداز میں ترجمہ کرتے ہوئے یہ ظاہر کر بیٹھا کہ خود سدارمیاہ کا انتقال ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: میٹا کے بچوں اور نوجوانوں کے تحفظ کے لیے کارآمد فیچرز، متعدد اکاؤنٹس بلاک

خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمے میں درج تھا کہ ‘چیف منسٹر سدارمیاہ کل انتقال کر گئے۔ انہوں نے بی سروجادیوی کے جسد خاکی کا دیدار کیا اور آخری رسومات پیش کیں۔’

میٹا نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے ایک مسئلہ ٹھیک کیا ہے جس کی وجہ سے کنڑا زبان کا ترجمہ کچھ وقت کے لیے غلط ہو رہا تھا، ہم اس پر معذرت خواہ ہیں۔

سدارمیاہ نے فیس بک اور ایکس پر اس غلطی کو خطرناک قرار دیا اور کہا کہ ایسی غفلت عوامی اعتماد کو مجروح کر سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کنڑا زبان کے لیے آٹو ترجمہ وقتی طور پر بند کیا جائے اور زبان کے ماہرین کی مدد سے اسے بہتر بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خودکار ترجمہ میٹا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خودکار ترجمہ میٹا کے لیے

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
  • سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے