چین کی امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے کچھ سیاست دانوں کی جانب سے چین کے داخلی معاملات کو دانستہ طور پر بدنام کرنے کی سختی سے مخالفت
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
بیجنگ : ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں وزارت خارجہ کے دفتر کے ایک ترجمان نے امریکہ ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے کچھ سیاستدانوں کی جانب سے چین اور ہانگ کانگ مخالف عناصر کو قانون کے مطابق گرفتار کرنے پر ہانگ کانگ پولیس کے قانون نافذ کرنےکے اقدامات کی بے بنیاد بدنامی پر سخت عدم اطمینان اور سخت مخالفت کا اظہار کیا۔ہفتہ کے روز ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ جان بوجھ کر ہانگ کانگ کے قومی سلامتی کے قانون کو بدنام کرنے اور ہانگ کانگ کے امور اور چین کے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت ہے۔ترجمان نے کہا کہ یوآن گونگ ای سمیت چین اور ہانگ کانگ مخالف 19 مطلوب افراد نے ریاستی طاقت کو ختم کرنے کے مقصد سے نام نہاد “ہانگ کانگ پارلیمنٹ” کی غیر قانونی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ یہ عمل ہانگ کانگ کے قومی سلامتی کے قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، “ایک ملک، دو نظام” کے اصول کو سنگین طور پر چیلنج کرتا ہے، اور قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کو سنگین خطرے میں ڈالتا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اور ہانگ کانگ ہانگ کانگ کے قانون کی چین کے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔