بیجنگ : ہانگ کانگ  خصوصی انتظامی علاقے میں وزارت خارجہ کے دفتر کے ایک ترجمان نے امریکہ ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے کچھ سیاستدانوں کی جانب سے چین اور ہانگ کانگ مخالف عناصر کو قانون کے مطابق گرفتار کرنے پر ہانگ کانگ پولیس کے قانون نافذ کرنےکے اقدامات کی بے بنیاد بدنامی پر سخت عدم اطمینان اور سخت مخالفت کا اظہار کیا۔ہفتہ کے روز ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ جان بوجھ کر ہانگ کانگ کے قومی سلامتی کے قانون کو بدنام کرنے اور ہانگ کانگ کے امور اور چین کے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت ہے۔ترجمان نے کہا کہ یوآن گونگ ای سمیت چین  اور ہانگ کانگ مخالف 19 مطلوب افراد نے ریاستی طاقت کو ختم کرنے کے مقصد سے نام نہاد “ہانگ کانگ پارلیمنٹ” کی غیر قانونی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔  یہ عمل ہانگ کانگ کے قومی سلامتی کے قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، “ایک ملک، دو نظام” کے اصول کو سنگین طور پر چیلنج کرتا ہے، اور قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کو سنگین خطرے میں ڈالتا ہے.

ہانگ کانگ پولیس کی جانب سے  ہانگ کانگ مخالف عناصر کو قانون کے مطابق گرفتار کرنا ہانگ کانگ میں قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ایک منصفانہ اقدام ہے، قومی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے ایک ضروری قدم ہے، اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہانگ کانگ کے طویل مدتی امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ایک جائز لائحہ عمل ہے۔ترجمان نے نشاندہی کی کہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے کچھ سیاست دانوں نے ہانگ کانگ کے امور  اور چین کے داخلی معاملات میں من مانے طریقے سے مداخلت کی ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز کیا ہے کہ ہانگ کانگ میں قانون کی حکمرانی مسلسل بہتر ہو رہی ہے، سماجی نظم و نسق تیزی سے مستحکم ہو رہا ہے اور معاشی ترقی میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ ہم ان سیاست دانوں اور اداروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ حقیقت کا سامنا کریں، ایک معروضی اور غیر جانبدارانہ موقف  کو برقرار رکھیں، ہانگ کانگ میں قانون کی حکمرانی کا احترام کریں، اور ہانگ کانگ کے معاملات اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت فوری طور پر بند کریں۔

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اور ہانگ کانگ ہانگ کانگ کے قانون کی چین کے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی