مریم نواز کی زیرصدارت خصوصی اجلاس: 1200 دیہات مثالی گاؤں بنانے کے منصوبے پر پیشرفت کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں مثالی گاؤں، ستھرا پنجاب اور ویسٹ ٹو ویلیو پراجیکٹس پر بریفنگ دی گئی۔ پنجاب میں 1200دیہات مثالی گاؤں بنانے کے پراجیکٹ پر پیشرفت کا جائزہ لیاگیا۔ ہر مثالی گاؤں میں 7 /24 واٹر سپلائی، مکمل سیوریج نیٹ ورک اور ویسٹ مینجمنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ بنیں گے۔ پنجاب کے مثالی گاؤں میں پختہ گلیاں، سڑکوں کی بحالی، چلڈرن پارک، شجر کاری بھی ہوگی۔ مثالی گاؤں میں گھروں پر نمبر لگائے جائیں گے اور سائن بورڈ بھی نصب ہوں گے۔ مثالی گاؤں کے لئے سولر سسٹم سے چلنے والے واٹر سپلائی ماڈل اور سیوریج سسٹم پر بریفنگ دی گئی۔ پراجیکٹ کے تحت پائلٹ فیز میں 130دیہات میں ترقیاتی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے مثالی گاؤں پراجیکٹ کی جلد از جلد تکمیل کیلئے ڈیڈ لائن طلب کر لی ہے۔ مریم نواز نے کہاکہ مثالی گاؤں پراجیکٹ میں عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ترجیحات کا تعین کیا جائے گا۔ مثالی گاؤں کے تحت ہر دیہات کو مکمل طور پر ڈویلپ کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں مریم نواز نے کوٹ رادھا کشن میں 12 سالہ بچی کا گلا کاٹنے کے دل دہلا دینے والے واقعہ کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے رپورٹ طلب کر لی اور فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ مریم نواز نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مثالی گاو ں مریم نواز
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘