ایشیا کپ 2025: پاک بھارت ٹاکرے کی تاریخ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
کراچی:
ایشیا کپ 2025 کے شیڈول کا باقاعدہ اعلان ہوگیا ہے جس کے مطابق پاک بھارت ٹاکرا 14 ستمبر کو ہوگا۔
ایونٹ متحدہ عرب امارات میں 9 ستمبر سے 28 ستمبر تک کھیلا جائے گا۔ اس بار ٹورنامنٹ میں آٹھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جو گزشتہ ایڈیشن کے مقابلے میں دو ٹیموں کا اضافہ ہے۔
ایشیائی کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے ہفتے کے روز ایونٹ کی تاریخوں کا اعلان کیا۔ ورلڈ کپ کو مدِنظر رکھتے ہوئے ٹورنامنٹ کو ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلا جائے گا۔
گروپ اے میں پاکستان، بھارت، عمان اور میزبان یو اے ای شامل ہیں، جبکہ گروپ بی میں بنگلہ دیش، ہانگ کانگ، افغانستان اور سری لنکا کی ٹیمیں شامل ہوں گی۔ افتتاحی میچ 9 ستمبر کو بنگلہ دیش اور ہانگ کانگ کے درمیان کھیلا جائے گا۔
ہر گروپ کی دو ٹاپ ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچیں گی، جہاں ایک نیا چار ٹیموں پر مشتمل گروپ بنے گا۔ اس مرحلے کی ٹاپ دو ٹیمیں 28 ستمبر کو فائنل میں آمنے سامنے ہوں گی۔
واضح رہے کہ بھارت اس ٹورنامنٹ کا رسمی میزبان ہے، تاہم بی سی سی آئی اور پی سی بی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت آئندہ تین سال تک اگر کوئی ایونٹ بھارت یا پاکستان میں منعقد ہو تو دوسری ٹیم کے لیے غیر جانبدار مقام فراہم کیا جائے گا۔
اسی معاہدے کے تحت رواں سال پاکستان میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت نے تمام میچز دبئی میں کھیلے، جن میں پاکستان کے خلاف میچ اور فائنل بھی شامل تھا، جسے بھارت نے جیتا تھا۔
ایشیا کپ میں بھارت اور پاکستان کا میچ ہمیشہ سب سے زیادہ مالی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، اسی وجہ سے دونوں ٹیموں کو ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے تاکہ کم از کم دو میچز یقینی ہو سکیں، پہلا 14 ستمبر کو اور ممکنہ دوسرا 21 ستمبر کو ہوگا۔ اگر دونوں ٹیمیں فائنل میں پہنچتی ہیں تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ ایشیا کپ کا فائنل پاک بھارت ٹاکرے میں تبدیل ہو۔
بھارت دفاعی چیمپئن ہے، جس نے پچھلے ایڈیشن کے فائنل میں سری لنکا کو شکست دی تھی۔ اس سے قبل 2022 میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے ایشیا کپ میں سری لنکا نے فائنل میں پاکستان کو ہرایا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فائنل میں ایشیا کپ ستمبر کو جائے گا
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔