ویب ڈیسک : وزیراعظم شہباز شریف نے وادی تیراہ کے علاقے باغ میدان میں خوارج کی فائرنگ سے پرامن شہریوں کی شہادت پر  افسوس کا اظہار کیا ہے۔

 وزیر اعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے پرامن شہریوں پر خوارج کی فائرنگ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ دہشت گردوں کےمکروہ عزائم ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے،ان کا کہنا تھاکہ دہشت گردوں اور دہشت گردی کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔

اے سی شالیمار اور پیرافورس پرمسلح لینڈمافیاکاحملہ ؛ پولیس نے دو ملزم گرفتار کرلیے

 دوسری جانب  وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی  تیراہ واقعے پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ تیراہ میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے ساتھ مکمل ہمدردی ہے اور واقعے کے بعد قبائلی مشران اور عوامی نمائندوں کا جرگہ پشاور طلب کرلیا۔ ان کا کہنا تھاکہ جرگہ طلبی کا مقصد مقامی جذبات اور تحفظات کو سننا ہے، ضلعی انتظامیہ اور ادارے نظم و ضبط برقرار رکھیں۔

 وزیراعلیٰ نے جاں بحق افراد کیلئے ایک ایک کروڑ اور زخمیوں کیلئے 25، 25 لاکھ روپے پیکج کا اعلان کیا،انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت پائیدارامن، عوامی تحفظ اور باہمی احترام کے فروغ کیلئے پرعزم ہے، آل پارٹیزکانفرنس میں اِنہی واقعات اورمعاملات کو حل کرنے پرسنجیدگی سے غور کرکے تجاویز مرتب کیں، عمائدین اور مشران کے ساتھ جرگوں کا سلسلہ ڈویژنل اور پھر صوبائی سطح پر اگلے ہفتے سے شروع ہوگا۔

چیٹ جی پی ٹی سے احتیاط ؛ اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین نے اہم مشورہ دے دیا

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار