Juraat:
2026-07-24@08:00:14 GMT

مصطفیٰ خان شیفتہ ۔۔ اردو کے عظیم شاعر و نقاد

اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT

مصطفیٰ خان شیفتہ ۔۔ اردو کے عظیم شاعر و نقاد

نواب مصطفی خان شیفتہ 27 دسمبر 1806ء کو دہلی، برطانوی ہندوستان (موجودہ بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مصطفی خان تھا اور وہ شیفتہ تخلص کرتے تھے۔ ان کا تعلق ایک ممتاز علمی اور ادبی خاندان سے تھا۔ ان کے والد عظیم الدولہ ایک معزز شخصیت تھے۔

تعلیمی پس منظر

شیفتہ نے ابتدائی تعلیم دہلی میں حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں میاں جی مال مال اور حاجی محمد نور نقشبندی شامل تھے۔ انہوں نے اردو اور فارسی میں شاعری کی اور شیفتہ کے نام سے اردو اور حسرتی کے نام سے فارسی میں لکھا۔

ادبی سفر

شیفتہ کی شاعری میں محبت، فلسفہ اور انسانی جذبات کی عکاسی ملتی ہے۔ ان کی شاعری کا آغاز 1824ء میں ہوا اور وہ جلد ہی دہلی کے ادبی حلقے میں شامل ہو گئے۔ وہ غالب، ذوق اور مومن جیسے مشہور شعرا کے قریب تھے اور ان سے مشورہ لیتے تھے۔ ان کی مشہور تصانیف میں "گلشنِ بے خار” شامل ہے جو اردو شاعری کی تاریخ پر مبنی ایک تذکرہ ہے۔

شخصی زندگی

شیفتہ کی زندگی میں کئی نشیب و فراز آئے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران، انہیں بغاوت میں شامل ہونے کے شک کی بنا پر گرفتار کیا گیا اور ان کی جائیداد ضبط کر لی گئی۔ بعد ازاں، انہیں معاف کر دیا گیا اور ان کی کچھ جائیداد واپس کر دی گئی۔ شیفتہ کا شمار دہلی کے مشہور مشاعروں کے میزبانوں میں ہوتا تھا۔

وفات

نواب مصطفی خان شیفتہ کا انتقال 11 جولائی 1869ء کو دہلی میں ہوا اور انہیں حضرت نظام الدین اولیاء کے قریب دفن کیا گیا۔ ان کی ادبی خدمات آج بھی اردو ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اور ان

پڑھیں:

معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔

Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a

— iffi (@iffiViews) July 22, 2026

طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم