گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے حلیم کی دیگ خود پکائی اور نیاز تقسیم کیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
10 محرم الحرام کے موقع پر گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے ایک منفرد روایت قائم کرتے ہوئے گورنر ہاؤس اسلام آباد میں خود دیگ تیار کی اور شہریوں میں حلیم کی نیاز تقسیم کی۔
ترجمان کے مطابق، گورنر سندھ نے دیگ کی تیاری کے تمام مراحل میں خود حصہ لیا، جبکہ گورنر ہاؤس کراچی میں بھی ان کی خصوصی ہدایت پر محرم کی مناسبت سے نیاز کے لیے دیگیں پکائی گئیں۔
مزید پڑھیں: 10 محرم الحرام پر اسلام آباد میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات، 4000 سے زائد اہلکار تعینات
اس موقع پر شہریوں میں حلیم بطور لنگر تقسیم کی گئی، جسے شہریوں نے عقیدت اور احترام کے ساتھ قبول کیا۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا کہنا تھا کہ ایسے مواقع پر عوام کے ساتھ رہنا اور ان کے جذبات میں شریک ہونا باعث فخر ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حق اور سچائی پر قائم رکھے اور ہم سب کو باہمی اخوت اور محبت کے رشتے میں جوڑے رکھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حلیم کی دیگ کامران خان ٹیسوری گورنر سندھ گورنر ہاؤس اسلام آباد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حلیم کی دیگ کامران خان ٹیسوری گورنر سندھ گورنر ہاؤس اسلام ا باد گورنر سندھ
پڑھیں:
اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟