اسلام آباد:

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کوئی ایسا کام نہیں کر رہی جس میں آپ کہیں کہ پیسے دیے جا رہے ہیں، صوبائی حکومت خود خوفزدہ ہے۔ 

ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کو گورنر ہاؤس کا فوبیا ہے کہ شاید وہاں پہ کوئی سازش ہو رہی ہے، میں نے تو پہلے کہا کہ اس فیصلے کے بعد تمام اپوزیشن جماعتوں کے52 ،53 ممبر بنتے ہیں، 30آزاد ہیں، پی ٹی آئی کے پاس اکثریت ہے تو آرام سے حکومت چلائیں، مسئلہ یہ ہے کہ یہ اپنی اندرونی سیاست سے خوفزدہ ہیں ، پی ٹی آئی میں اتنے گروپ بن چکے ہیں، ہر ایک نے دوسرے کے خلاف محاذآرائی اختیار کی ہوئی ہے۔

رہنما پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی سازش کامیاب ہو جائے، ن لیگ چاہتی ہے پورے پاکستان پر ان کی گرفت مضبوط ہوجائے، خیبر پختونخوا عمران خان اور تحریک انصاف کا قلعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گورنر کا کیا کام ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ ملاقاتیں کر رہا ہے،

انہوں نے کہا کہ گورنر آئینی عہدیدار ہے، انہوں نے لوگوں کو آفر دینے بہت کوشش کی لیکن خیبر پختونخوا سے منتخب ہو نے والوں نے بڑی مشکلات دیکھی ہیں، وہ لوگ الیکشن لڑ کر آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی باتیں ہوتی ہیں کہ ہم کچھ نہیں کر رہے ، ہمارا کیا کام خیبر پختونخوا حکومت ہٹانے کا لیکن یہ لوگ پورا زور لگا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا پی ٹی ا ئی نے کہا کہ

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا