data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات 21 جولائی کو ہوں گے، جن میں تحریک انصاف کو بھاری نقصان کا امکان ہے، اسے 3 کنفرم نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

الیکشن کمیشن نے سینیٹ میں صوبہ خیبر پختونخوا کی 7 جنرل، 2 خواتین اور 2 ٹیکنوکریٹ کے علاوہ علماء کی نشستوں کی پولنگ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

صوبائی الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ 21 جولائی 2025 کو خیبر پختونخوا اسمبلی کی بلڈنگ میں ہوگی۔ تحریک انصاف کو بھاری نقصان کا امکان ہے۔ انہیں 3 کنفرم نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

الیکشن کمیشن نے 2 اپریل 2024 کو مخصوص نشستوں پر منتخب ممبران صوبائی اسمبلی سے حلف نہ لینے اور الیکٹورل کالج نامکمل ہونے کی وجہ سے یہ سینیٹ انتخابات ملتوی کیے تھے، 145 رکنی ایوان میں تحریک انصاف کے 92 ایم پی ایز ہیں اور اپوزیشن کی تعداد 53 ہے، مخصوص نشستیں نہ ملتیں تو اپوزیشن صرف ایک سیٹ پر کامیاب ہوتی، اب پی ٹی آئی کو 7 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

الیکشن کمیشن نے ثانیہ نشتر کی سینیٹ سے خالی ہونے والی سیٹ پر انتخابات کیلئے بھی الیکشن پروگرام جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پبلک نوٹس 9 جولائی 2025 کو، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی تاریخ 10 اور 11جولائی، کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 16 جولائی اور پولنگ 31 جولائی کو ہوگی۔

مرحوم ساجد میر کی خالی نشست پر الیکشن کے مختلف مراحل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اِس پر الیکشن کو بھی الیکٹورل کالج نامکمل ہونے کی وجہ سے ملتوی کیا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن تحریک انصاف

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن