امن کے لیے انصاف، مکالمہ اور انسانی وقار کو ترجیح دی جائے، چیئرمین سینیٹ کی عالمی برادری سے اپیل
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے وینس میں عالمی امن کانفرنس سے اہم خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ امن کے لیے انصاف، مکالمہ اور انسانی وقار کو ترجیح دی جائے۔
وینس میں عالمی امن کانفرنس ہوئی جس میں "آج کے عالمی امن کو درپیش چیلنجز" میں پاکستان اور یورپی شخصیات نے شرکت کی۔
یوسف رضا گیلانی نے شہباز بھٹی شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ضمیر کے لیے قربانی کی علامت ہے، پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ انصاف اور بین المذاہب ہم آہنگی کی علمبرداری کی۔
چیئرمین سینیٹ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ امن کے لیے انصاف، مکالمہ اور انسانی وقار کو ترجیح دی جائے، انہوں نے کہا کہ امن صرف جنگ کا نہ ہونا نہیں، بلکہ انصاف کی موجودگی ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے اپنے بیٹے کے اغوا کا ذاتی واقعہ بیان کر کے شرکاء کو گہرے جذبات میں مبتلا کر دیا، انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں مفادات نہیں، اخلاقی ذمہ داری کے تحت کردار ادا کریں۔
سید یوسف رضا گیلانی نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی ضمیر کو متحرک کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ وینس کانفرنس، بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے لیے پاکستان کے عزم کا مظہر ہے،یہ کانفرنس نہیں، ایک عالمی عہد ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ امن کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز