سکیورٹی خدشات کے پیش نظر عالمی جوہری ادارے کے معائنہ کار ایران سے واپس چلے گئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
سکیورٹی خدشات کے پیش نظر عالمی جوہری ادارے کے معائنہ کار ایران سے واپس چلے گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 5 July, 2025 سب نیوز
عالمی جوہری ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے معائنہ کاروں کو ایران سے واپس بلا لیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق معائنہ کاروں کی آخری ٹیم آج بحفاظت ایران سے روانہ ہو کر ویانا میں آئی اے ای اے کے ہیڈ کوارٹر پہنچ گئی ہے۔
آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں جوہری تنصیبات کی نگرانی اور تصدیقی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے جلد از جلد طریقہ کار طے کرنا نہایت ضروری ہے، تاکہ اعتماد کی فضا برقرار رکھی جا سکے اور عالمی جوہری معاہدے کے تحت شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا قانون نافذ کر دیا تھا، جس کے بعد ایران میں ایجنسی کی سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں۔
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے تناظر میں آئی اے ای اے کے رویے کو دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا بل منظور کیا تھا، جس کی ایرانی سپریم کونسل نے بھی باقاعدہ توثیق کر دی تھی۔
حالیہ اقدامات کے بعد ایران اور عالمی جوہری ادارے کے درمیان تعلقات مزید کشیدگی کا شکار ہو گئے ہیں، جبکہ عالمی برادری اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکراچی: عمارت گرنے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری، جاں بحق افراد کی تعداد 17 تک جا پہنچی یوکرین کیخلاف جنگ میں روس کی شکست قبول نہیں، چین نے یورپی یونین کو آگاہ کر دیا ٹرمپ نے بگ بیوٹی فل بل پر دستخط کر دیے، غزہ میں جنگ بندی کا عزم غزہ جنگ بندی معاہدہ آئندہ ہفتے ہونے کا امکان، حماس کی جانب سے مثبت پیشرفت نئے ’دلائی لاما‘ کی تقرری پر بیان بازی، چین نے بھارت کو خبردار کردیا روانڈا اور پاکستان نے بحرانوں کا مقابلہ کیا, ہمسایوں کی جارحیت کا دندا ن شکن جواب دیا, مشاہد حسین سید کا روانڈا کے 31... دلائی لاما کے نئے جنم پر بحث کیوں جاری ہے اور چین کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے؟
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عالمی جوہری ادارے ایران سے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔