عالمی جوہری ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے معائنہ کاروں کو ایران سے واپس بلا لیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق معائنہ کاروں کی آخری ٹیم آج بحفاظت ایران سے روانہ ہو کر ویانا میں آئی اے ای اے کے ہیڈ کوارٹر پہنچ گئی ہے۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں جوہری تنصیبات کی نگرانی اور تصدیقی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے جلد از جلد طریقہ کار طے کرنا نہایت ضروری ہے، تاکہ اعتماد کی فضا برقرار رکھی جا سکے اور عالمی جوہری معاہدے کے تحت شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا قانون نافذ کر دیا تھا، جس کے بعد ایران میں ایجنسی کی سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں۔

اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے تناظر میں آئی اے ای اے کے رویے کو دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا بل منظور کیا تھا، جس کی ایرانی سپریم کونسل نے بھی باقاعدہ توثیق کر دی تھی۔

حالیہ اقدامات کے بعد ایران اور عالمی جوہری ادارے کے درمیان تعلقات مزید کشیدگی کا شکار ہو گئے ہیں، جبکہ عالمی برادری اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آئی اے ای اے کے عالمی جوہری

پڑھیں:

امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ

بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا