data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حب(نمائندہ جسارت)حب جیسے صنعتی اور گنجان آباد شہر کی حالت بہتر بنانا ہماری ذمہ داری ہے حکومت بلوچستان تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر عوام کو ریلیف فراہم کرے گی اور بلدیاتی اداروں کو بھی مزید متحرک کیا جائے گا۔عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اس لیے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ صوبائی وزیر میر علی حسن زہری۔تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر ذراعت اور ترجمان آصف علی زرداری برائے بلوچستان میر علی حسن زہری حب پہنچے جہاں انہوں نے حالیہ مون سون بارشوں کے بعد شہر میں پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا وزیر موصوف نے مختلف علاقوں کا دورہ کیا جن میں زہری اسٹریٹ جام کالونی اور دیگر گنجان آباد گلی محلے شامل ہیں۔ اس موقع پر میر علی حسن زہری نے بیروٹ نالے کا بھی معائنہ کیا، جہاں انہوں نے صفائی کے جاری کام کو مزید تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ چیف آفیسر اور چیئرمین میونسپل کارپوریشن حب کو کام میں مزید تیزی لائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیروٹ نالے کی صفائی ہر صورت مکمل کی جائے تاکہ آئندہ بارشوں کے دوران شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو اور پانی کی نکاسی بروقت ممکن ہو سکے۔ صوبائی وزیر نے موقع پر موجود افسران کو ہدایت کی کہ جہاں جہاں بارش کا پانی جمع ہے وہاں فوری نکاسی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اس لیے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی میر علی حسن زہری نے یہ بھی اعلان کیا کہ پی ڈی ایم اے سے مزید ہیوی مشینری اور نکاسی آب کا سامان طلب کیا جا رہا ہے تاکہ تمام متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف ممکن ہو انہوں نے کہا کہ بلدیاتی عملہ فیلڈ میں موجود رہے اور شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے دورے کے دوران مقامی مکینوں نے صوبائی وزیر کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا جن میں نکاسی آب سیوریج نظام کی خرابی اور بارش کے پانی کے باعث گھروں میں پانی داخل ہونے کی شکایات شامل تھیں وزیر موصوف نے تمام شکایات کو سنجیدگی سے نوٹ کیا اور موقع پر ہی متعلقہ حکام کو فوری حل کی ہدایات دیں میر علی حسن زہری کا کہنا تھا کہ حب جیسے صنعتی اور گنجان آباد شہر کی حالت بہتر بنانا ہماری ذمہ داری ہے حکومت بلوچستان تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر عوام کو ریلیف فراہم کرے گی اور بلدیاتی اداروں کو بھی مزید متحرک کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عوام کو ریلیف فراہم میر علی حسن زہری انہوں نے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان