بجٹ میں محنت کشوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے‘ خالد خان
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ حکومت نے بجٹ میں محنت کشوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا ہے۔ محنت کشوں کے ادارے کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں۔ کم از کم اجرت 42000 کے بجائے 50 ہزار روپے مقرر کی جائے۔ ٹھیکیداری نظام کی پابندی کے باوجود ٹھیکیداری نظام کاچلائے جانا محنت کشوں کے ساتھ ظلم ہے۔ مہنگائی کے تناسب سے محنت کشوںکی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا جائے۔ یہ بات نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر خالد خان نے کراچی پریس کلب پر بجٹ میں محنت کشوں کو ریلیف نہ دیے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع NLF کراچی کے جنرل سیکرٹری قاسم جمال، سینئر نائب صدرصغیر احمد انصاری، ایپوا کے چیئرمین اظفر شمیم، نائب صدر محمد خالق عثمانی، سینئر جوائنٹ سیکرٹری امیرروان، پی سی ہوٹل یونین کے صدر محمد محبوب، اسماعیل شاہ، نور حسین ارکانی، شاکر محمود ودیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع NLF سائٹ ایریا، کورنگی، لانڈھی بن قاسم، گلبرگ فیڈرل ایریا و دیگر صنعتی علاقوںکی ملحقہ یونینز کے کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ محنت کشوں کے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ بھی تھے۔ جن میں کم ازکم اجرت میں اضافے اورکم ازکم اجرت 50 ہزار روپے مقرر کیے جانے، محنت کشوں کے اداروں ورکرز ویلفیئر بورڈ، سوشل سیکورٹی EOBI سے کرپشن کے خاتمے کے نعرے درج تھے۔ نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر خالد خان نے کہا کہ ایک جانب حکمراں ارکان اسمبلی، ارکان سینیٹ، سینیٹ کے چیئرمین، وزراء کی تنخواہوں میں 500 فیصد اضافہ کیا ہیں
اوردوسری جانب ان کے پاس محنت کشوں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ حکومت مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے EOBI ضعیف پنشنرز کی EOBI کے اپنے ادارے کے ریٹائر ملازمین کے برابر کردیں یا کم ازکم تنخواہ کے برابر کردیں۔ بیوہ کی پنشن10 سال تک محدود کرنا، بزرگ پنشنرز کو اس مہنگائی کی دلدل میں چھوڑ دینا ظلم ہے۔ حکمرانوںکو چاہیے کہ وہ اپنی عیاشیاں ختم کریں، ملک سے کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔ حکومت ملک سے غربت کے خاتمے کے بجائے غریبوں کو ہی ختم کر رہی ہے۔ ملک میں مہنگائی اور غربت کا راج ہے۔ حکمرانوں نے پاکستان کو تباہ و برباد کر دیا ہے اور محنت کشوں کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ این ایل ایف مزدور دشمن بجٹ مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور ہم اس ظالمانہ بجٹ کے خلاف پوری قوت کے ساتھ احتجاج کریں گے۔ این ایل ایف کراچی کے جنرل سیکرٹری قاسم جمال نے کہا کہ این ایل ایف محنت کشوں کی ترجمان ہے اور ہم کسی بھی قیمت پر محنت کشوں پر ظلم برداشت نہیں کریں گے۔ صغیر انصاری نے کہا کہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے محنت کشوں کو متحد ہونا ہوگا۔ اظفر شمیم نے کہا کہ پنشن میں بھی اضافہ کیا جائے۔ شاکر محمود نے کہا کہ بجٹ میں محنت کشوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اور ان کے لیے مشکلات پیدا کی گئی ہیں۔ نور حسین اراکانی نے کہا کہ محنت کشوں کو اپنے حقوق چھیننے ہوں گے۔ امیرروان نے کہاکہ لیبر ڈیپارٹمنٹ محنت کشوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے سرمایہ داروں کا محافظ بنا ہوا ہے۔ اسماعیل شاہ نے کہا کہ ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کیا جائے۔ محمد محبوب نے کہاکہ پاکستان میں ILO قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ رکشہ ایسوسی ایشن کے صدرعمران زیدی نے کہا کہ حکومت نے کراچی کے رکشوں پر پابندی لگا کر لاکھوں گھرانوں کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ہے۔ ہم این ایل ایف کے ساتھ مشترکہ جدوجہد کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محنت کشوں کو محنت کشوں کے ایل ایف نے کہا کہ کیا جائے کراچی کے کے ساتھ ہے اور کے صدر
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔