جنوبی وزیرستان میں کرفیو نافذ کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
تمام تحصیلوں میں نقل و حرکت پر پابندی عائد ہو گی۔ نجی ٹی وی کے مطابق تودہ چینہ تا مکین، سراروغہ، کوٹکئی اور سپینکئی روٹس مکمل بند کر دیئے گئے ہیں، مکین تا کانی گرم اور شیروانگی تک آمدورفت نہیں ہو سکے گی۔ اسلام ٹائمز۔ جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی خدشات کے باعث آج صبح 6 سے شام 7 بجے تک مکمل کرفیو نافذ کر دیا گیا، جس کے تحت تمام تحصیلوں میں نقل و حرکت پر پابندی عائد ہو گی۔ نجی ٹی وی کے مطابق تودہ چینہ تا مکین، سراروغہ، کوٹکئی اور سپینکئی روٹس مکمل بند کر دیئے گئے ہیں، مکین تا کانی گرم اور شیروانگی تک آمدورفت نہیں ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ عزیز آباد چوک سے شین وارسک، مولا خان سرائے اور چگملائی کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں شناختی کارڈ اور دستاویزات کے ساتھ سفر ممکن ہو گا۔ نوٹیفکیشن میں شہریوں سے کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز کی گاڑی دیکھ کر گاڑی کو 100 میٹر دور کھڑی کیا جائے، عوام امن و امان کے لیے تعاون کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔