ٹنڈوالہیار،رہائشی علاقوں سے برساتی پانی نہ نکالا جاسکا
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت) مون سون کی برسات تو تھم چکی ہے مگر ٹنڈوالٰہیار شہر کی مختلف رہائشی کالونیوں میں برساتی پانی نہ نکا لا جاسکا جس سے علاقہ مکینوں کو مزید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ٹنڈوالٰہیارمیں مون سون کی برسات کو بند ہوئے تین روز گزر چگے ہیں ٹنڈوالٰہیار شہر کی مختلف کالونی میں پرسات کاپانی تاحل جمع ہے اکرم کالونی بھیل کالونی ،مجاہد کالونی ،ابراہیم کالونی،مدینہ کالونی ،ہدایت کالونی،پیاز فیکٹری،خواجہ اجمیر کالونی،منصور کالونی ، عباس بھائی ٹائون ، رند آباد کالونی،پٹھان کالونی، سخی وہاب کالونی،میو کالونی ، جناح ٹائون ،بکیرا روڈ ،چمبڑ روڈ،موج دریا روڈ،سمیت مختلف کالونیوں میں برساتی پانی جمع ہونے کی وجہ سے علاقہ مکینوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کر نا پڑرہا ہے اورپانی جمع ہونے کی وجہ سے مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں علاقہ مکینوں نے بتایا کہ علاقہ میں کوئی بھی ترقیاتی کام نہیں ہواہے گلیا ں ٹوٹ پوٹ کا شکار ہیں نالیوں میں سے سیوریج کا گندہ پانی بہ رہا ہے علاقہ کے کونسلر صرف ووٹ لینے کے وقت گھر گھر جاکر ووٹ مانگتے ہیں جیتنے کہ بعدکونسلر اپنی شکل دکھانا گوارا بھی نہیںسمجھتے ہیںجبکہ دوسری جانب میونسپل کمیٹی ٹنڈوالٰہیار کی جانب سے صفا ئی ستھرائی کے بلند دعوے کیے جارہے ہیں وہ دعوے صرف دعوے تک محدوہیں علاقہ مکینوں نے چیئر میں بلاول بھٹو زردای وزیر اعلیٰ سندھ صوبائی وزیر بلدیات اور ڈپٹی کمشنر ٹنڈوالہیار سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے علاقوں میں سے ترقیاتی کا م کرائے جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقہ مکینوں ٹنڈوال ہیار
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔