data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: لاہور سمیت پنجاب بھر میں ہیلتھ کارڈ کی بندش کے بعد مریض بےحال ہوگئے، لاہور کے 3 بڑے اسپتالوں پی آئی سی، سروسز، جناح میں زیر علاج مریض پریشان ہیں۔

مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ صحت کارڈ ایک سہولت تھی اس کو بند نہ کیا جائے، ہمارے اتنے وسائل نہیں کہ ہم پیسوں سے علاج کرواسکیں، اسپتالوں میں کچھ بھی فری نہیں مل رہا ہے۔

ایک مریضہ کے والد نے کہا کہ میری بیٹی کا آپریشن ہے دوائیاں بہت مہنگی ہیں، اب تک میری بیٹی کے علاج پر 2 لاکھ تک لگ چکے ہیں، ملتان سے جناح اسپتال آئے، یہاں آکر پتا چلا صحت کارڈ بند ہوچکا ہے۔

ایک مریض نے کہا کہ غریب آدمی کے لیے پریشانی ہے ادویات بہت مہنگی ہے، حکومت کو دوبارہ صحت کارڈ کو بحال کرنا چاہیے۔

خیال رہے کہ لاہور کے سرکاری اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کی سہولت ختم کردی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتال میں پہلے ہی سہولیات مفت ہیں، اس لیے ہیلتھ کارڈ سہولت ختم کی گئی۔

وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ بند ہونے سے فرق نہیں پڑے گا، پرائیویٹ اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ پہلے کی طرح چل رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں ہیلتھ کارڈ اسپتالوں میں

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • کسان کارڈ سے کاشتکار سر اٹھا کر جیئے گا: مریم نواز
  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی