انتظامیہ جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی بڑھانے کے انتظامات کریں، گورنر بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
اپنے بیان میں گورنر مندوخیل نے اس بات پر زور دیا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران کو محرم کے دوران عوام کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے متحرک اور چوکس رہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے تمام ضلعی انتظامیہ کو محرم الحرام کے دوران سخت حفاظتی انتظامات پر عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں عبادت گاہوں، امام بارگاہوں اور جلوسوں کے ارد گرد سیکورٹی بڑھانے کے انتظامات کریں اور متعلقہ ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط روابط بڑھائیں۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران کسی بھی ممکنہ مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے ہمہ وقت چوکس رہیں اور خود حفاظتی انتظامات کی کڑی نگرانی کریں تاکہ عاشورہ اور جلوسوں کیلئے محفوظ ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔ اپنے بیان گورنر بلوچستان نے کہا کہ وہ 8، 9 اور 10 محرم کو عاشورہ کی مجالس اور جلوسوں کی حفاظت کیلئے اضافی نفری تعینات کرکے حفاظتی اقدامات مزید سخت کئے جائیں۔ گورنر مندوخیل نے اس بات پر زور دیا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران کو محرم کے دوران عوام کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے متحرک اور چوکس رہیں۔ انہوں نے سکیورٹی کے انتظامات پر تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سہراتے ہوئے کہا کہ حفاظتی انتظامات اور خاص طور عوام کے جان ومال کے تحفظ پر کسی قسم کی کوتاہی برادشت نہیں کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ضلعی انتظامیہ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔