محرم الحرام؛ امن وامان کی صورتحال کی نگرانی کیلئے وزارتِ داخلہ میں مرکزی کنٹرول قائم
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
سٹی 42 : محرم الحرام میں امن وامان کی صورتحال کی نگرانی کے لیے وزیر داخلہ کی ہدایت پر اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ میں مرکزی کنٹرول قائم کردیا گیا، کنٹرول روم تھریٹ الرٹ فوری طور پر اسٹک ہولڈرز کو بھیجے گا، ساتھ ہی کنٹرول روم خصوصی رپورٹس اور حادثات کی رپورٹس متعلقہ اداروں کو بھی بھجوائےگا۔ اسکے علاوہ کنٹرول روم صوبائی ہوم ڈپارٹمنٹس کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔ کنٹرول روم الیکٹرک میڈیا رپورٹس کےذریعے بھی صورتحال کو مانیٹر کرے گا۔
کم سن بچی سوئمنگ پول میں ڈوب کر جاں بحق
وزارت داخلہ کے مختلف افسران کو آج8 ویں محرم سے ڈیوٹیز پر مامور کردیا گیا ، افسران 10 ویں محرم تک مختلف اوقات کار میں فرائض انجام دیں گے۔ کنٹرول روم ہوم ڈیپارٹمنٹس اور متعلقہ اداروں کے مابین کورڈینیشن کا کام کرے گا ۔
کنٹرول روم میں ایمرجنسی نمبر، فیکس اور وائرلیس سسٹم بھی نصب کردیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کنٹرول روم
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔