1972ء میں لوگ اردو اور پاکستان کیلئے باہر نکلے تھے: حیدر عباس رضوی
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
ایم کیوایم پاکستان کے تحت شہدائے اردو لیاقت آباد کے لیے دعائیہ تقریب کراچی میں منعقد ہوئی اور ایم کیو ایم کے اراکین سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلی نے شہدائے اردو کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی۔
اس موقع پر ایم کیوایم کے رہنما سید حیدر عباس رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم قائد اعظم کو اس ریاست کا بابائے اعظم تصور کرتے ہیں، قائد اعظم نے اپنی تقریر میں اردو کو قومی زبان قرار دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر لوگ سمجھتے ہیں کہ اردو مہاجروں کی مادری زبان ہے تو بتانا چاہتا ہوں کہ مہاجر 12 سے 14 زبانیں بولتے ہیں۔
حیدر عباس رضوی نے کہا کہ یہ کوئی مہاجر مسئلہ نہیں ہے، 1972ء میں متنازع لسانی بل کے خلاف لوگ اردو اور ریاستِ پاکستان کے حق میں باہر نکلے تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 1972ء کے احتجاج میں پولیس نے بربریت کا مظاہرہ کیا تھا، لاتعداد لوگ پولیس کی فائرنگ سے شہید ہوئے اور یہ آج بھی انصاف کے طلب گار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
لاہور ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جس پر انکی 8 بیٹیاں عدالت کے باہر دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں درخواست گزار غلام حسین نے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو انکے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے لہٰذا عدالت انہیں بازیاب کرا کے ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے۔
سماعت کے دوران شبنم بی بی نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کرچکی ہیں اور ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے خاتون کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
عدالتی فیصلے کے بعد عدالت کے باہر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں شبنم بی بی کی پہلی شادی سے ہونے والی بیٹیاں زار و قطار روتی رہیں۔
بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے بھی انکار کردیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ عدالتی حکم کے بعد شبنم بی بی اپنے شوہر غلام حسین کے ہمراہ روانہ ہوگئیں۔