وادی تیراہ میں خوارج کی فائرنگ سے بے گناہ شہری شہید ہوئے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے علاقے وادی تیراہ میں پُرامن مظاہرین اور بے گناہ شہریوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے وادی تیراہ کے علاقے باغ میدان میں خوارج کی فائرنگ سے بے گناہ معصوم اور پر امن شہریوں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا۔
وزیر اعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایات دیں جبکہ پُرامن شہریوں کو خوارج کی جانب سے نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کے مکروہ عزائم ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، دہشت گردوں اور دہشت گردی کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔
واضح رہے کہ وادی تیراہ میں احتجاجی مظاہرے کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد کے جاں بحق اور 17 سے زائد کی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جس کی کے پی حکومت کی جانب سے تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔
دوسری جانب آئی جی خیبر پختونخوا نارتھ نے ایف سی اسپتال میں وادیِ تیراہ میں خوارج کی فائرنگ سے ہونے والے زخمیوں کی عیادت کی اور اُن کی جلد صحت یابی کیلیے دعا کی۔
میجر جنرل راؤ عمران سرتاج نے فرنٹیئر کور ٹیچنگ اسپتال میں وادی تیراہ کے زخمیوں کی عیادت کی۔ زخمیوں نے آئی جی ایف سی نارتھ کو خوارج کی فائرنگ کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا اور علاج پر اطمینان کا اظہار کیا۔
واقعے کے زخمیوں نے خوارج سے اپنے علاقے کو پاک کرنے اور ایک فوج کے شانہ با شانہ خوارج کے خلاف لڑنے کے عزم کو دہرایا جبکہ پاک فوج اور ایف سی نارتھ کا مفت علاج معالجہ فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خوارج کی فائرنگ وادی تیراہ تیراہ میں
پڑھیں:
ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
واشنگٹن: امریکا کی ریاست آئیووا کے شہر مسکیٹین میں ایک افسوسناک فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز مشرقی آئیووا کے شہر مسکیٹین میں پیش آیا، جو دریائے مسیسیپی کے کنارے واقع ہے۔
پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق واقعے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ کا تعلق ایک گھریلو یا خاندانی تنازع سے تھا، تاہم حکام نے ابھی تک تنازع کی نوعیت یا اس کے پس منظر کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
پولیس کو دوپہر کے وقت فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو ایک گھر کے اندر چار افراد کی لاشیں ملیں، جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق مشتبہ ملزم موقع سے فرار ہوچکا تھا، تاہم جلد ہی اس کی شناخت 52 سالہ ریان ولیس میک فارلینڈ کے نام سے کرلی گئی، جو مسکیٹین کا رہائشی تھا۔
بعد ازاں پولیس نے ملزم کو شہر کے دریا کنارے واقع پیدل چلنے کے راستے کے قریب تلاش کرلیا۔ پولیس چیف انتھونی کیز کے مطابق جب افسران اس سے بات چیت کر رہے تھے تو اس نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں مجموعی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ خاندان کے افراد اور خود ملزم شامل ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
امریکا میں گھریلو تنازعات سے جڑے فائرنگ کے واقعات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جبکہ اس افسوسناک سانحے نے مقامی کمیونٹی کو شدید صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔