تیراہ واقعہ پر ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج کا قبائلی عمائدین سے جرگہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
پشاور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جولائی 2025ء ) ضلع خیبر کے علاقہ وادی تیراہ میں پیش آنے والے واقعے پر ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج کا قبائلی عمائدین سے جرگہ کامیاب ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ کی وادی تیراہ میں ضلعی انتظامیہ و پاک فوج کے بریگیڈیئر اور قبائلی عمائدین کے درمیان تفصیلی جرگہ ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ واقعے کے ہر شہید کے لواحقین کو 15 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 2 لاکھ روپے کا فوری مالی تعاون دیا جائے گا، زخمیوں کا علاج ریاستی خرچ پر کرایا جائے گا۔
جرگہ نے فیصلہ کیا کہ اس افسوسناک واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور جہاں ضروری ہوا تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، جرگے کے ذریعے تمام فریقین میں مفاہمت اور امن بحالی پر بھی اتفاق ہوا، جرگے میں مقامی مشران نے پانچ نکات پر مشتمل تجاویز دیں جن میں واقعے میں ملوث سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور مکانات کی واگزاری جیسے معاملات بھی شامل تھے۔(جاری ہے)
بتایا جارہا ہے کہ کل وادی تیراہ کے باغ بازار میں مارٹر شیلنگ کے نتیجے میں ایک معصوم بچی شہید ہوئی، اس واقعہ کے بعد آج اہل علاقہ احتجاج کے لیے سکیورٹی فورسز کے ہیڈکوارٹر کے سامنے جمع ہوئے تو اُن پر براہِ راست فائرنگ کی گئی، اس فائرنگ کے نتیجے میں شہریوں کے شہید اور زخمی ہونے کی اطلاع ملی، وادی تیراہ میں پرامن احتجاج پر فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی میتیں ان کے آبائی علاقوں میں بھیج دی گئیں۔ اس معاملے پر پی ٹی آئی رہنماء اور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جنید اکبر نے کہا کہ وادی تیراہ میں امن مارچ میں نہتے قبائلی مشران و نوجوانوں اور معصوم بچوں پر فائرنگ کے نتیجے میں بچوں سمیت 7 بے گناہ افراد کو شہید کردیا گیا اور اس دوران متعدد زخمی بھی ہوئے، دوران جنگ بھی معصوم بچوں کو قتل کرنے کی اجازت کوئی مذہب، ریاست اور قانون نہیں دیتا، سوچیے اور غور کیجئے ریاست کے اس سے فعل سے دہشت گردی میں کمی آئے گی یا بڑھے گی؟ کیا حکمرانوں کو کوئی احساس ہے کہ پشتون بیلٹ اور ریاست کے درمیان دوریاں کس حد تک بڑھ رہی ہیں؟۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وادی تیراہ میں کے نتیجے میں
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔