اسرائیلی فوجی اب اسلام اور عربی سیکھیں گے
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب: اسرائیلی ڈیفنس فورس (IDF) کے انٹیلی جنس ڈائریکٹر نے 7 اکتوبر 2023 کی نسل کشی سے سبق لیتے ہوئے تربیتی تصور میں ایک جامع تبدیلی لانے کے لیے ایک نئی پہل کی ہے۔ Galei Tzahal کی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹوریٹ کے تمام فوجیوں اور افسران کے لیے عربی اور اسلام کا مطالعہ لازمی کر دیا گیا ہے۔
اس پروگرام کے تحت تربیتی نظام کے اندر اسلام اور عربی کی تعلیم کے لیے ایک مختص شعبہ قائم کیا جائے گا۔ یہ نیا شعبہ نہ صرف مترجمین اور ریڈیو آپریٹرز بلکہ انٹیلی جنس ریسرچرز کو بھی تربیت دے گا۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر بریگیڈ اور ڈویژن کا انٹیلی جنس افسر اعلیٰ سطح پر عربی جانتا ہو اور اسلامی ثقافتی دنیا کی گہری سمجھ رکھتا ہو۔عربی اور اسلام کے علوم کو بھرتی سے پہلے کے مرحلے (فوجی خدمات سے پہلے) سے تعلیمی تیاری کے پروگراموں میں شامل کیا جائے گا۔ یہ افسران اور مستقل اہلکاروں کی بنیادی اور جدید تربیت میں جاری رہے گا۔
اگلے سال تک 100 فیصد انٹیلی جنس اہلکاروں کو اسلام کے شعبے میں تربیت دینے کا ہدف ہے اور 50 فیصد عربی بھی سیکھیں گے۔ایک اور اقدام میں مڈل ایسٹرن اسٹڈیز پروموشن ڈپارٹمنٹ کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے جو بجٹ میں کٹوتیوں کی وجہ سے چھ سال قبل بند کر دیا گیا تھا۔ یونٹ 8200 کے تحت کام کرنے والے اس محکمہ سے توقع ہے کہ وہ اسکولوں میں تعلیمی اقدامات کو فروغ دینے کے عمل کو دوبارہ شروع کرے گا، جس میں ‘مڈیس ایسٹرن کیڈٹ کورس’ جیسے پروگرام شامل ہیں، جس کا مقصد ابتدائی عمر میں ہی عربی اور مشرق وسطیٰ کی تعلیم کو مضبوط بنانا ہے۔
اس کے علاوہ حوثی اور عراقی بولیوں میں خصوصی کورسز شروع کیے گئے ہیں۔ ایک سینئر انٹیلی جنس افسر نے اسرائیل ڈیفنس فورس ریڈیو کو بتایا، آج تک ہم ثقافت، زبان اور اسلام میں اتنے اچھے نہیں تھے، ہمیں ان شعبوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، ہم انٹیلی جنس سپاہیوں اور افسران کو دیہاتوں میں پرورش پانے والے عرب بچوں میں تبدیل نہیں کر سکتے لیکن زبان اور ثقافت کی تعلیم دے کر ہم ان میں تنقیدی سوچ اور گہرا مشاہدہ پیدا کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انٹیلی جنس اور اسلام
پڑھیں:
اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟