اسرائیلی فوجی اب اسلام اور عربی سیکھیں گے
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب: اسرائیلی ڈیفنس فورس (IDF) کے انٹیلی جنس ڈائریکٹر نے 7 اکتوبر 2023 کی نسل کشی سے سبق لیتے ہوئے تربیتی تصور میں ایک جامع تبدیلی لانے کے لیے ایک نئی پہل کی ہے۔ Galei Tzahal کی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹوریٹ کے تمام فوجیوں اور افسران کے لیے عربی اور اسلام کا مطالعہ لازمی کر دیا گیا ہے۔
اس پروگرام کے تحت تربیتی نظام کے اندر اسلام اور عربی کی تعلیم کے لیے ایک مختص شعبہ قائم کیا جائے گا۔ یہ نیا شعبہ نہ صرف مترجمین اور ریڈیو آپریٹرز بلکہ انٹیلی جنس ریسرچرز کو بھی تربیت دے گا۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر بریگیڈ اور ڈویژن کا انٹیلی جنس افسر اعلیٰ سطح پر عربی جانتا ہو اور اسلامی ثقافتی دنیا کی گہری سمجھ رکھتا ہو۔عربی اور اسلام کے علوم کو بھرتی سے پہلے کے مرحلے (فوجی خدمات سے پہلے) سے تعلیمی تیاری کے پروگراموں میں شامل کیا جائے گا۔ یہ افسران اور مستقل اہلکاروں کی بنیادی اور جدید تربیت میں جاری رہے گا۔
اگلے سال تک 100 فیصد انٹیلی جنس اہلکاروں کو اسلام کے شعبے میں تربیت دینے کا ہدف ہے اور 50 فیصد عربی بھی سیکھیں گے۔ایک اور اقدام میں مڈل ایسٹرن اسٹڈیز پروموشن ڈپارٹمنٹ کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے جو بجٹ میں کٹوتیوں کی وجہ سے چھ سال قبل بند کر دیا گیا تھا۔ یونٹ 8200 کے تحت کام کرنے والے اس محکمہ سے توقع ہے کہ وہ اسکولوں میں تعلیمی اقدامات کو فروغ دینے کے عمل کو دوبارہ شروع کرے گا، جس میں ‘مڈیس ایسٹرن کیڈٹ کورس’ جیسے پروگرام شامل ہیں، جس کا مقصد ابتدائی عمر میں ہی عربی اور مشرق وسطیٰ کی تعلیم کو مضبوط بنانا ہے۔
اس کے علاوہ حوثی اور عراقی بولیوں میں خصوصی کورسز شروع کیے گئے ہیں۔ ایک سینئر انٹیلی جنس افسر نے اسرائیل ڈیفنس فورس ریڈیو کو بتایا، آج تک ہم ثقافت، زبان اور اسلام میں اتنے اچھے نہیں تھے، ہمیں ان شعبوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، ہم انٹیلی جنس سپاہیوں اور افسران کو دیہاتوں میں پرورش پانے والے عرب بچوں میں تبدیل نہیں کر سکتے لیکن زبان اور ثقافت کی تعلیم دے کر ہم ان میں تنقیدی سوچ اور گہرا مشاہدہ پیدا کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انٹیلی جنس اور اسلام
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔