اسلام آباد(نوائے وقت رپورٹ+وقائع نگار) وزیراعلیٰ خیبرپی کے علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ چیلنج ہے سیاسی اور جمہوری طریقے سے حکومت گرا کر دکھاؤ۔ ڈسٹرکٹ کورٹس اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے ، 5 اگست کو ملک بھر سے لوگ احتجاج کیلئے نکلیں گے ، بانی رہا ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مقدمات سے گھبرانے والے نہیں، میرے اوپر جھوٹے اور من گھڑت مقدمات بنائے گئے ہیں، ہم ہمیشہ سے اپنے آپ کو قانون کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ میرے خلاف یہ کیس 2016 سے چل رہا ہے ، میرے خلاف جو کیس بنایا گیا ہے اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے ، میرے اوپر اسلحہ اور بوتلیں ڈالی گئی ہیں، جب یہ کیس بنایا گیا میں نہ ہی وہاں موجود تھا نہ ہی وہ گاڑی میری تھی۔ ہماری جنگ حق کی ہے یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے ، میں اپنے صوبے میں اس احتجاج کو لیڈ کروں گا۔ دوسری جانب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں شراب اور اسلحہ برآمدگی کیس کی سماعت ہوئی، عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے پر وزیراعلیٰ خیبرپی کے علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیئے گئے ۔جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے کیس پر سماعت کی، علی امین گنڈا پور اپنے وکیل راجہ ظہور الحسن کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے ۔ بعدازاں عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپی کے کو جانے کی اجازت دے دی، علی امین گنڈاپور کے ضمانتی کو دیا گیا شوکاز نوٹس بھی واپس لے لیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی