اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دور حکومت کے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی کا کہنا ہے کہ جو بندہ ریحام خان اور بشریٰ سے شادی کر لے وہ کبھی لیڈر کبھی نہیں ہوسکتا۔

شبر زیدی نے ایک پوڈ کاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے پاکستانی معیشت، حکومت اور پی ٹی آئی کے حوالے سے مختلف باتیں کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے متعلق بھی گفتگو کی ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے دو بیویوں کے چناؤ میں غلطی کی۔ ریحام خان اور بشریٰ بی بی سے شادی کرنے والا شخص لیڈر نہیں ہو سکتا اور میں اس بات پر بالکل کلیئر ہوں، ایسے آدمی کا ٹیسٹ ہونا چاہیے۔

جو بندہ ریحام خان اور بشریٰ سے شادی کر لے وہ بندہ لیڈر کبھی نہیں ہوسکتا ۔۔۔
شبر زیدی pic.

twitter.com/ePeexd8Dbo

— Zafar Shirazi ???????? (@ZafarShirazi7) July 31, 2025


ان کا کہنا تھا کہ میں نے عمران خان کو کبھی فیڈ بیک نہیں دیا لیکن اس معاملے پر ناپسندیدگی کا اظہار ضرور کیا تھا۔ جو آدمی یہ کام کر سکتا ہے اس سے دور رہنا بہتر ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا یہ عمران خان کے ساتھ اختلاف ہے۔ اور جو ایسے فیصلے لیتا ہے وہ خطرناک بھی ہوتا ہے۔

شبر زیدی نے مزید کہا کہ عمران خان بے وقوف، بدتمیز، گدھا اور پاگل ہو سکتا ہے لیکن کرپٹ نہیں، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ عمران خان نے کسی کو مروایا ہے وہ قاتل نہیں ہے لیکن دوسرے لوگوں پر الزامات ہیں۔

واضح رہے کہ شبر زیدی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان کی وزارت عظمیٰ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین تھے اور انہوں نے اپنے بے باک انٹرویوز و بیانات کی وجہ سے توجہ بھی حاصل کی تھی۔

یاد رہے کہ عمران خان نے پہلی شادی سنہ 1995 میں برطانوی خاتون جمائما گولڈ سمتھ سے کی تھی جن سے ان کے دو بیٹے ہیں۔ عمران خان کی دوسری شادی اینکر پرسن ریحام خان سے سنہ 2014 میں ہوئی تھی اور یہ شادی ایک برس ہی چل سکی پھر انہوں نے تیسری شادی بشریٰ بی بی سے کی تھی۔

Post Views: 6

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ریحام خان اور بشری کہ عمران خان انہوں نے کا کہنا

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ناتمام (آخری قسط)
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ