حکومت کا غیر رجسٹرڈ عازمین سے بھی حج درخواستیں وصول کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
حج 2026 رجسٹریشن سے رہ جانے والوں کے لئے خوش خبری ہے جب کہ حکومت نے غیر رجسٹرڈ عازمین سے بھی حج درخواستیں وصول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
رپورٹ کے مطابق ساڑھے چار لاکھ رجسٹرڈ عازمین سے سوا لاکھ کا حج کوٹہ مکمل نہ ہونے کا خدشہ ہے، ذرائع نے کہا کہ وزارت مذہبی امور نے کم درخواستوں کے خدشہ پر غیر رجسٹرڈ عازمین کو موقع دینے کا فیصلہ کیا۔
رجسٹرڈ عازمین سے حج درخواستوں کی وصولی کل بروز پیر سے شروع کی جائے گی، رجسٹرڈ عازمین سرکاری اسکیم کے تحت درخواستیں 4 سے 9 اگست تک جمع کرواسکتے ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ غیر رجسٹرڈ عازمین سے درخواستوں کی وصولی 11 اگست سے 16 اگست تک جاری رہے گی، درخواستیں پہلے آیئے پہلے پائیے کی بنیاد پر وصول کی جائیں گی۔
حج درخواستوں کے لیے پہلا موقع رجسٹرڈ عازمین کو دیا جائے گا، 38 سے 42 روزہ حج کے لئے 5 لاکھ روپے جمع کروانے ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق 20 سے 25 روزہ مختصر حج کی پہلی قسط کے طور پر ساڑھے پانچ لاکھ روپے جمع کروانے ہوں گے۔
حج درخواستیں ملک کے 14 نامزد بینکوں میں جمع کروائی جاسکتی ہیں، حج اخراجات کی دوسری قسط تین ماہ بعد یکم نومبر کو وصول کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔