پنجاب کو زہریلے صنعتی مادوں سے پاک کرنے کیلئے میگا آپریشن کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کو زہریلے صنعتی مادوں اور زہریلی دھاتوں سے پاک کرنے کیلئے میگا آپریشن کا حکم دے دیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اس حوالے سے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں انڈسٹریل یونٹس اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کیخلاف فوری کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ماحول کے تحفظ (ای پی اے) کے ادارے کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ، آبپاشی، واسا، انڈسٹری، صحت، ایل ڈی اے سمیت دیگر متعلقہ محکمے مل کر میگا آپریشن کریں گے، پنجاب بھر میں نہروں اور نالوں کا معائنہ ہوگا، ماحول کا عالمی معیار قائم کیا جائے گا۔صوبے بھر میں اس حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر سروے کا آغاز کردیا گیا، صنعتوں سے نکلنے والے زہریلے کچرے اور مواد کو نہروں اور نالوں میں پھینکنے پر مکمل پابندی ہوگی، زہریلا کچرا عوام میں مہلک بیماریاں پھیلانے کی بنیادی وجہ ہے۔اجلاس میں ویسٹ ٹریٹمنٹ کے بغیر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، 28 ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور صنعتوں کو نوٹس جاری کر دیئے گئے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہڈیارہ ڈرین میں زہریلا اور انسانی صحت کے لئے خطرناک کچرا ڈالنے کا سخت نوٹس لے کر کارروائی کا حکم دیا تھا، وزیر اعلیٰ نے اداروں کو 10 اگست تک ہڈیارہ ڈرین کی صفائی کی ڈیڈلائن دے دی۔اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ زہریلے صنعتی کچرے سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، پھیپھڑوں کے کینسر سمیت دیگر مہلک بیماریاں بڑھ رہی ہیں، فیصل آباد، شیخوپورہ، سیالکوٹ، قصور کے صنعتی نالوں کی سٹڈی مکمل کر لی گئی، آلودگی پھیلانے پر جرمانوں کی قانون سازی مکمل کر لی گئی، جس پر فوری عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔حکومت نے ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کے لئے صنعتوں کو بلا سود قرضے دینے کا فیصلہ کیا ہے، سیکرٹری انڈسٹری کو قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ میں فوری ویسٹ واٹر پلانٹ لگانے کی ہدایت کی گئی ہے۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے ہدایت کی ہے کہ 31 اگست تک مکمل ہیلتھ سروے پیش کیا جائے، رپورٹ پر عمل یقینی بنایا جائے، 10 اگست سے فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فیصلہ کیا گیا
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔