ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ تحریک کا مقصد آئین ہونا چاہیے، کسی شخص کے لیے ریلیف نہیں، حکومت کے پاس بھی مذاکرات کرنے کا اختیار نہیں، نظام جیسا بھی ہے تحریک انصاف اس کے اندر ہی رہے، پی ٹی آئی اگر اسمبلیاں چھوڑتی ہے تو پھر حکومت بھی چھوڑ دے۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک کو وسیع ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، اس میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو شامل کیا جائے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت کو تحریک انصاف کو احتجاج کی اجازت دینی چاہیے، تحریک کے ذریعے بانی پی ٹی آئی جیل سے رہا نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف رول آف لا کی بات کرے، رول آف لا کے ذریعے ہی عمران خان رہا ہوں گے، اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے، لاہور میں جلسے کی اجازت نہ دینا حکومت کی ناکامی ہے جب کہ ہماری جماعت کو پی ٹی آئی کے احتجاج میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔

سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا تجویز دیتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان کی مقتدرہ سے بات میری سمجھ سے باہر ہے، آج ملک کو وسیع ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، وسیع ڈائیلاگ میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ بھی ہو، میری نظر میں ملک نہیں چل رہا، حکمران کرسی کو چھوڑ کر ملک کی ترقی کا راستہ ڈھونڈیں۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جو چینی ڈیلیور نہیں کرسکتے وہ کیا ڈیلیور کریں گے، تحریک کا مقصد آئین ہونا چاہیے، کسی شخص کے لیے ریلیف نہیں، حکومت کے پاس بھی مذاکرات کرنے کا اختیار نہیں، نظام جیسا بھی ہے تحریک انصاف اس کے اندر ہی رہے، پی ٹی آئی اگر اسمبلیاں چھوڑتی ہے تو پھر حکومت بھی چھوڑ دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شوگر ملز مالکان کی لسٹ منگوائی جائے، شوگر ملز کے 90 فیصد مالکان سیاست دان اور تعلق ہر جماعت سے ہے، چینی کی ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کا ایشو ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی وسیع ڈائیلاگ تحریک انصاف کہنا تھا کہ پی ٹی آئی

پڑھیں:

’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 

پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز،  915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم