ملک کو وسیع ڈائیلاگ کی ضرورت، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ کو شامل کیا جائے، شاہد خاقان عباسی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ تحریک کا مقصد آئین ہونا چاہیے، کسی شخص کے لیے ریلیف نہیں، حکومت کے پاس بھی مذاکرات کرنے کا اختیار نہیں، نظام جیسا بھی ہے تحریک انصاف اس کے اندر ہی رہے، پی ٹی آئی اگر اسمبلیاں چھوڑتی ہے تو پھر حکومت بھی چھوڑ دے۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک کو وسیع ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، اس میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو شامل کیا جائے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت کو تحریک انصاف کو احتجاج کی اجازت دینی چاہیے، تحریک کے ذریعے بانی پی ٹی آئی جیل سے رہا نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف رول آف لا کی بات کرے، رول آف لا کے ذریعے ہی عمران خان رہا ہوں گے، اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے، لاہور میں جلسے کی اجازت نہ دینا حکومت کی ناکامی ہے جب کہ ہماری جماعت کو پی ٹی آئی کے احتجاج میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔
سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا تجویز دیتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان کی مقتدرہ سے بات میری سمجھ سے باہر ہے، آج ملک کو وسیع ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، وسیع ڈائیلاگ میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ بھی ہو، میری نظر میں ملک نہیں چل رہا، حکمران کرسی کو چھوڑ کر ملک کی ترقی کا راستہ ڈھونڈیں۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جو چینی ڈیلیور نہیں کرسکتے وہ کیا ڈیلیور کریں گے، تحریک کا مقصد آئین ہونا چاہیے، کسی شخص کے لیے ریلیف نہیں، حکومت کے پاس بھی مذاکرات کرنے کا اختیار نہیں، نظام جیسا بھی ہے تحریک انصاف اس کے اندر ہی رہے، پی ٹی آئی اگر اسمبلیاں چھوڑتی ہے تو پھر حکومت بھی چھوڑ دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شوگر ملز مالکان کی لسٹ منگوائی جائے، شوگر ملز کے 90 فیصد مالکان سیاست دان اور تعلق ہر جماعت سے ہے، چینی کی ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کا ایشو ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی وسیع ڈائیلاگ تحریک انصاف کہنا تھا کہ پی ٹی آئی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔