بھارتی میڈیا کی پاکستان مخالف جھوٹی مہم بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
پاکستان کے خلاف مسلسل منفی پراپیگنڈا میں مصروف بھارتی میڈیا کی ایک اور جھوٹی مہم کا پردہ چاک ہو گیا۔وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان کے شفاف مؤقف اور حقائق پر مبنی وضاحت نے بھارتی میڈیا کے فریب کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا۔بھارتی حکومت اور گودی میڈیا نے اپنی ہی صدر کو جھوٹے بیانیے کا حصہ بنا کر شرمناک حد پار کر دی۔بھارتی ٹی وی چینل ریپبلک ٹی وی نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ پاکستان نے بھارتی فضائیہ کی خاتون پائلٹ شیوَانگی سنگھ کو گرفتار کرلیا ہے۔چینل نے بھارتی صدر کے ساتھ شیوانگی سنگھ کی تصاویر نشر کر کے پاکستان کے نام سے من گھڑت بیانیہ بنانے کی ناکام کوشش کی۔وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان کے مطابق پاکستان نے آپریشن "بنیانِ المرصوص" کے دوران کسی بھی بھارتی پائلٹ کی گرفتاری کا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی 11 مئی 2025 کی پریس کانفرنس میں واضح کیا تھا کہ پاکستان کی تحویل میں کوئی بھارتی پائلٹ موجود نہیں اور تمام خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔ترجمان کے مطابق بھارتی پروپیگنڈا مشینری اپنی اندرونی اور عسکری ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مسلسل جھوٹ اور فریب کا سہارا لے رہی ہے۔گودی میڈیا اس سے قبل بھی متعدد بے بنیاد، مضحکہ خیز اور جعلی رپورٹس شائع کر کے خود کو جگ ہنسائی کا نشانہ بنا چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان کے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ